خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 566 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 566

566 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 اور پھر خدا کے حسن و احسان پر پوری اطلاع ہو اور پھر اس سے محبت کا تعلق ایسا ہو کہ سوزش محبت ہر وقت سینہ میں موجود ہو اور یہ حالت ہر ایک دم چہرہ پر ظاہر ہو۔اور خدا کی عظمت دل میں ایسی ہو کہ تمام دنیا اس کی ہستی کے آگے مُردہ متصور ہو اور ہر ایک خوف اسی کی ذات سے وابستہ ہو۔اور اسی کی درد میں لذت ہو۔اور اسی کی خلوت میں راحت ہو۔اور اس کے بغیر دل کو کسی کے ساتھ قرار نہ ہو۔اگر ایسی حالت ہو جائے تو اس کا نام پرستش ہے۔مگر یہ حالت بجز خدا تعالیٰ کی خاص مدد کے کیونکر پیدا ہو۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے یہ دعا سکھلائی إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ( الفاتحه : 5)۔یعنی ہم تیری پرستش تو کرتے ہیں مگر کہاں حق پرستش ادا کر سکتے ہیں جب تک تیری طرف سے خاص مدد نہ ہو۔خدا کو اپنا حقیقی محبوب قرار دے کر اس کی پرستش کرنا یہی ولایت ہے جس سے آگے کوئی درجہ نہیں۔مگر یہ درجہ بغیر اس کی مدد کے حاصل نہیں ہو سکتا۔اس کے حاصل ہونے کی یہ نشانی ہے کہ خدا کی عظمت دل میں بیٹھ جائے۔خدا کی محبت دل میں بیٹھ جائے اور دل اسی پر توکل کرے اور اسی کو پسند کرے اور ہر ایک چیز پر اسی کو اختیار کرے۔اور اپنی زندگی کا مقصد اسی کی یاد کو سمجھے۔اور اگر ابراہیم کی طرح اپنے ہاتھ سے اپنی عزیز اولاد کے ذبح کرنے کا حکم ہو یا اپنے تئیں آگ میں ڈالنے کے لئے اشارہ ہو تو ایسے سخت احکام کو بھی محبت کے جوش سے بجالائے اور رضا جوئی اپنے آقائے کریم میں اس حد تک کوشش کرے کہ اس کی اطاعت میں کوئی کسر باقی نہ رہے۔یہ بہت تنگ دروازہ ہے اور یہ شربت بہت ہی تلخ شربت ہے۔تھوڑے لوگ ہیں جو اس دروازہ میں سے داخل ہوتے اور اس شربت کو پیتے ہیں۔زنا سے بچنا کوئی بڑی بات نہیں اور کسی کو ناحق قتل نہ کرنا بڑا کام نہیں اور جھوٹی گواہی نہ دینا کوئی بڑا ہنر نہیں مگر ہر ایک چیز پر خدا کو اختیار کر لینا اور اس کے لئے سچی محبت اور سچے جوش سے دنیا کی تمام تلخیوں کو اختیار کرنا بلکہ اپنے ہاتھ سے تلخیاں پیدا کر لینا یہ وہ مر تبہ ہے کہ بجز صدیقوں کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔یہی وہ عبادت ہے جس کے ادا کرنے کے لئے انسان مامور ہے اور جو شخص یہ عبادت بجالاتا ہے تب تو اس کے اس فعل پر خدا کی طرف سے بھی ایک فعل مترتب ہوتا ہے جس کا نام انعام ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے یعنی یہ دعا سکھلاتا ہے کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عليهم ( الفاتحة 7-6)۔یعنی اے ہمارے خدا!! ہمیں اپنی سیدھی راہ دکھلا، ان لوگوں کی راہ جن پر تو نے انعام کیا ہے اور اپنی خاص عنایات سے مخصوص فرمایا ہے۔حضرت احدیت میں یہ قاعدہ ہے کہ جب خدمت مقبول ہو جاتی ہے تو اس پر ضرور کوئی انعام مترتب ہوتا ہے۔چنانچہ خوارق اور نشان جن کی دوسرے لوگ نظیر پیش نہیں کر سکتے ہے بھی خدا تعالیٰ کے انعام ہیں جو خاص بندوں پر ہوتے ہیں“۔(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 55-54) اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیان کردہ ان توقعات پر جو انہوں نے ہم سے رکھی ہیں پورا اترنے والے ہوں، اس پر کوشش کرنے والے ہوں، اپنی سی کوشش کرتے رہیں اور ہم کرنے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ انشاء اللہ فضل ہی فرمائے گا۔اللہ کرے۔الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شماره 47 مورخہ 19 نومبر تا 25 نومبر 2010 صفحہ 5 تا8)