خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 562 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 562

562 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم ہے تو پھر خودان کو احساس پیدا ہوا۔پھر انہوں نے شیطان سے بچنے کے لئے لا حَول پڑھنا شروع کیا۔لَا حَوْلَ وَلَا قوة الا باللہ۔پھر آہستہ آہستہ ان کی نمازوں کی طرف توجہ پید ا ہوئی اور وہ انہماک پید اہوا۔پھر تہجد کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔پھر نوافل کی طرف توجہ پیدا ہوئی۔تو بعض دفعہ انسان کو بعض باتوں کا پوری طرح علم نہیں ہو تا۔وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں بعض نیکیاں میں کر رہا ہوں ان کو کرنے کا بڑا فائدہ ہے۔اور ذکر کرنے سے یاور د وظائف کرنے سے بڑا مقام حاصل ہو سکتا ہے۔گو یہ بڑی اچھی بات ہے ، ذکر کرنا چاہئے۔ذکر الہی سے زبان تر رکھنی چاہئے۔لیکن جو اللہ تعالیٰ نے فرائض بتائے ہیں وہ پورے کر کے اور آنحضرت صلی الی تم نے ہمارے سامنے نوافل اور تہجد کی جو سنت قائم فرمائی اس کو کر کے ساتھ ساتھ یہ چیزیں ہوں تب ٹھیک ہے۔لیکن صرف ایک چیز پر زور دینا اور اصل فرائض کو چھوڑ دینا، سنت کو چھوڑ دینا، یہ غلط طریق کار ہے۔پس ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اللہ ہو کی مجلسیں، ذکر اذکار کی مجلسیں بے شک بڑی پاکیزہ مجلسیں ہیں لیکن یہ جب ایک حد سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں تو پھر شیطان کی طرف لے جاتی ہیں۔پس اصل نیکی وہی ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے جو توحید کے قیام کے لئے اہم ہے۔پس بظاہر نیکی کرنے کی طرف توجہ دلانے والی باتیں جب بعض اوقات بدعات بن جاتی ہیں تو دوسری بدعات تو بہت زیادہ اثر ڈالتی ہیں۔عام بدعات جو معاشرے پر اثر ڈالتی ہیں وہ تو ڈالتی ہی ہیں۔لیکن یہ بظاہر نیکی کی طرف لے جانے والی جو بدعات ہیں یہ بھی انسان کو اصل فرائض سے محروم کر دیتی ہیں۔اس لئے ایک احمدی کو بہت زیادہ احتیاط کرنی چاہئے۔اپنے فرائض، نوافل، تہجد ضروری چیزیں ہیں جن کی آنحضرت صلی علیم نے تلقین فرمائی ہے اور جن کی سنت ہمارے سامنے پیش فرمائی۔اور پھر دعائیں اور ذکر اذکار ہیں۔تب ایک انسان حقیقی مومن بننے کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔اس معاشرے میں ان بدعات سے بچنے کے لئے ایک احمدی کو جہاد کے رنگ میں کوشش کرنی چاہئے۔جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ جدید ترقیات نے بعض برائیوں کو بھی پھیلانے میں بڑا کر دار ادا کیا ہے۔اور بغیر سوچے سمجھے بعض لوگ خود بھی اور اپنے بچوں کو بھی ان باتوں میں ڈال دیتے ہیں جن کا علم ہی نہیں ہو تا کہ اس کی حقیقت کیا ہے؟ اس کی روح کیا ہے ؟ بس دیکھا دیکھی معاشرے کے پیچھے چل کر وہ کام کرنے شروع کر دیتے ہیں۔اگر اُس دعا کی طرف توجہ ہو جو آنحضرت صلی اللہ ہم نے ہمیں سکھائی ہے کہ بعض باتیں جو لا علمی میں ہو جاتی ہیں ان کے کرنے پر بھی اے اللہ ہمیں تیری بخشش چاہئے تو جب دعا نیک نیتی سے ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی بخشش ہوتی ہے تو پھر آئندہ انسان بعض برائیوں سے محفوظ بھی ہو جاتا ہے۔Halloween کی رسم بہر حال اس برائی کا جو آج کل مغرب میں ان دنوں میں بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی ہے اور آئندہ چند دنوں میں منائی جانے والی ہے ، اُس کا میں ذکر کرنا چاہتا ہوں۔یہ halloween کی ایک رسم ہے۔جیسا کہ میں