خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 558
خطبات مسرور جلد ہشتم 558 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 اکتوبر 2010 ختم ہو جاتا ہے۔لیکن حضرت داتا گنج بخش یا اور کسی پیر فقیر پر ان لوگوں کا خدا سے بڑھ کر ایمان پیدا ہو جاتا ہے۔عور تیں اور مرد تقریباً یکساں اس میں شامل ہیں۔پانچ نمازیں تو ہر ایک کو ایک بوجھ لگتی ہیں۔اور آسان راستہ ان کے لئے یہی ہے کہ قبروں پر دعائیں کرنے اور منتیں مانگنے سے اپنے مسائل حل کروالیں۔اور کیونکہ یہ سلسلہ ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں چل رہا ہے اس لئے خدا تعالیٰ پر ایمان آہستہ آہستہ ختم ہوتا جارہا ہے۔پچھلے دنوں میں ایک ہندو کی ایک نظم نظر سے گزری۔اس کو مسلمانوں میں انہی بدعات کو دیکھتے ہوئے یہ جرات پیدا ہوئی کہ اس نے ایک نظم لکھ دی کہ ہم ہندو جو ہیں دیوی دیوتاؤں کو پوجتے ہیں تو مسلمان بھی قبروں پر جاتے ہیں اور پیروں فقیروں کو سجدے کرتے ہیں، ان کے پجاری ہیں۔اس نے تو نعوذ باللہ یہاں تک کہہ دیا کہ تم آنحضرت صلی میں کم کو خدا بنا دیتے ہو۔جو بہر حال ایک الزام ہے اور ایک حقیقی مومن پر انتہائی مکروہ الزام ہے۔آنحضرت صلی اللہ ہم سے بڑھ کر نہ تو کوئی توحید کا علم بردار تھا، نہ ہو سکتا ہے۔آپ صلی علیہ کم سے بڑھ کر نہ تو توحید کی تعلیم دینے والا کوئی تھا اور نہ ہو سکتا ہے۔آپ صلی علیہ کم سے بڑھ کر توحید کا فہم و ادراک حاصل کرتے ہوئے اپنے آپ پر اس توحید کو لاگو کرنے والا کوئی تھا نہ ہو سکتا ہے۔توحید کی حقیقت کو وہی سمجھ سکتا ہے جو خدا تعالیٰ کو ہر چیز پر فوقیت دینے والا ہو۔اور آپ صلی علی کم سے زیادہ کون اللہ تعالیٰ کو فوقیت دینے اور آپ کو حاصل کرنے میں بے چین ہو سکتا تھا۔ان کی نبوت کے زمانہ سے پہلے کی تاریخ یہ گواہی دیتی ہے کہ گھنٹوں اور دنوں علیحد گی میں اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مصروف رہتے تھے۔آپ کی ایک دعا ہے۔یہ دعا ہی خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے دلی خواہش اور بے چینی کا پتہ دیتی ہے۔آپ اپنے مولیٰ کے حضور بڑے بے چین ہو کر یہ عرض کرتے ہیں کہ : اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي حُبَّكَ وَ حُبّ مَنْ يَنْفَعُنِي حُبُّهُ عِنْدَكَ اللَّهُمَّ مَا رَزَقْتَنِي مِمَّا أُحِبُّ فَاجْعَلْهُ قُوَّةً لِي فِيْمَا تُحِبُّ اللَّهُمَّ وَمَا زَوَيْتَ عَنِّى مِمَّا اُحِبُّ فَاجْعَلْهُ فَرَانَّا لِي فِيْمَا تُحِبُّ ( ترمذی کتاب الدعوات باب 73 / 74 حدیث: 3491) کہ اے اللہ ! مجھے اپنی محبت عطا کر اور اس کی محبت جس کی محبت مجھے تیرے حضور فائدہ دے۔اے اللہ ! جو میری پسندیدہ چیزیں ہیں مجھے عطا کر۔انہیں میرے لئے تقویت کا ذریعہ بنا دے، اپنی محبت میں بڑھنے کا ذریعہ بنادے، ایمان میں ترقی کا ذریعہ بنا دے۔اور جو میری پیاری چیزیں مجھ سے علیحدہ کرے ان کے بدلے اپنی پسندیدہ چیزیں مجھے عطا کر۔پس اگر آپ مالی علی کرم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی محبت مانگتے ہیں تو اس چیز کی جو خدا تعالیٰ کو پسند ہے اور دنیا کی ہر پسندیدہ چیز کی محبت آپ صلی الی یوم اس دعا اور عرض کے ساتھ مانگتے ہیں کہ یہ مجھے دین میں بھی بڑھائے اور خدا تعالیٰ کی محبت میں بھی بڑھائے۔پس بعض لوگ جو یہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم پیروں فقیروں کی قبروں پر اس لئے جاتے