خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 550 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 550

خطبات مسرور جلد ہشتم 550 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 ہوتی رہتی تھیں۔لیکن اللہ نے اپنا فضل کیا۔ان کو ہر جانور کے حملے سے محفوظ رکھا۔ایسی حالت میں اب نیند تو آ نہیں سکتی تھی تو یہ لوگ گاؤں کے باہر ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹہلتے رہے۔پھر کہتے ہیں کہ آدھی رات کو دریا کے کنارے ہم ریت پر بیٹھ گئے۔قرآن کریم کے جو حصے ہمیں یاد تھے ایک دوسرے کو سنانے لگ گئے۔پھر آیات کی تفسیر میں باتیں ہوتی رہیں۔بہر حال یہ دینی باتیں ہوتی رہیں۔پھر کچھ رات گزری تو حضرت مولانا نذیر احمد علی صاحب نے ایک لمبی پر سوز دعا کرائی کہ اللہ تعالیٰ اس گاؤں والوں کو ہدایت دے اور اسلام کی اور احمدیت کی ترقی اور اپنے نیک مقاصد کے لئے دعائیں کیں۔پھر اس کے بعد ٹہلنا شروع کیا۔پھر یہ کہتے ہیں کہ تین بجے کے قریب ہم لوگ اٹھے اور گاؤں میں گئے کہ مسجد میں جا کر تہجد کی نماز پڑھیں۔جب مسجد میں داخل ہوئے ہیں تو مسلمان کہلانے والوں کی مسجد کا یہ حال تھا کہ ایک دم اندھیرے میں عجیب قسم کی آوازیں آنا شروع ہوئیں اور تھوڑی دیر بعد وہاں مسجد سے بکریوں کا ریوڑ باہر نکلا۔مسجد میں گند ڈالا ہوا تھا۔کہتے ہیں ہم نے مسجد صاف کی اور پھر صفیں بچھا کر نماز پڑھنی شروع کی۔فجر کی نماز کا وقت ہوا۔پھر ہم دونوں نے باری باری اذان دی۔اور اذان دینے سے لوگ ہماری طرف آنا شروع ہوئے، غیر مسلم بھی آنا شروع ہوئے۔ان کے جو بڑے مسلمان لیڈر تھے وہ اس لئے آگئے کہ کہیں یہ نہ ہو کہ رات کو کسی نے جگہ دے دی ہو اور انہوں نے ہماری مسجد پر قبضہ کر لیا ہو۔خیر اس کے بعد ہم نے نماز پڑھی۔وہ ہمیں نماز پڑھتے ہوئے دیکھتے رہے اور انہوں نے کہا فرق تو کوئی نہیں ہے۔یہ تو غلط مشہور ہوا ہے کہ ان کی اذان کا فرق ہے اور یا نماز میں فرق ہے۔سوائے نماز کے اس فرق کے کہ احمدی نماز ہاتھ باندھ کر پڑھ رہے تھے اور ان میں سے اکثریت کیونکہ وہاں مالکیوں کی ہے وہ ہاتھ چھوڑ کر نماز پڑھتے ہیں تو صرف یہ فرق ہے۔بہر حال اتنا سا تعارف ہوا اور گاؤں والوں نے کوئی پذیرائی نہیں کی۔مخالفت تو کم نہیں ہوئی۔یہ شکر ہے کہ انہوں نے ان کو مسجد میں نماز پڑھنے سے روکا نہیں اور نماز پڑھ کے پھر یہ لوگ واپس آگئے۔(ماخوذ از روح پر در یادیں از مولانا محمد صدیق صاحب صفحہ 230226) تو ایسے حالات سے بھی گزرے۔لیکن بعد میں پھر اللہ تعالیٰ نے احمدیت کا وہاں نفوذ کیا اور احمدیت ان علاقوں میں پھیلی۔تو یہ تفقہ فی الدین کا حقیقی اور عملی اظہار ہے جو ہمارے مبلغین نے کیا۔پس ایک واقف زندگی کو اپنی خواہشات کی قربانی بھی دینی پڑتی ہے۔شدائد سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا آج بھی بعض جگہ یہ نمونے ہمیں نظر آتے ہیں اور دیکھے ہیں۔لیکن ہمارے نئے شامل ہونے والے مربیان بھی، مبلغین بھی اور واقفین نو کو بھی ان باتوں کو سامنے رکھ کر اپنے میدان میں بھی اور تعلیم کے دوران بھی اس طرح کام کرنا چاہئے اور اس سوچ کے ساتھ اپنے آپ کو تیار کرنا چاہئے کہ یہ جذبہ ہے جو ہم نے لے کر میدانِ عمل میں جانا ہے۔میرے سامنے جامعہ کے بہت سارے طلباء بیٹھے ہوئے ہیں۔ابھی سے ہی یہ سوچنا شروع کر دیں کہ اس کے بغیر ہم دین کو پھیلا نہیں سکتے۔اور اگر یہ نہیں ہو گا تو پھر