خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 547
547 خطبات مسرور جلد ہشتم خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 تھا۔ہوائی جہاز کا تو اس وقت تصور ہی نہیں تھا۔راستے میں مجھے خیال آیا کہ میں اتنے عرصے کے بعد ملک واپس جارہا ہوں اور میرے پاس نئے کپڑے بھی نہیں ہیں جنہیں پہن کر میں ربوہ کے ریلوے سٹیشن پر اتروں گا۔اس وقت مبلغین کراچی آیا کرتے تھے پھر وہاں سے ٹرین پر ربوہ پہنچتے تھے۔تو کہتے ہیں کہ میں انہی خیالات میں تھا اور دعاؤں میں لگا ہوا تھا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ مجھے دل میں بھی اس قسم کی خواہش نہیں کرنی چاہئے تھی۔یہ وقف کی روح کے خلاف ہے۔کہتے ہیں میں نے اس پر بڑی تو بہ استغفار کی۔اور پھر چند دن بعد جہاز سنگا پور میں پورٹ پر رکا۔کہتے ہیں میں جہاز کے عرشے پہ کھڑا ، ڈیک پر کھڑا نظارہ کر رہا تھا کہ میں نے ایک شخص کو ایک گٹھڑی اٹھائے ہوئے جہاز پر چڑھتے دیکھا۔وہ سیدھا جہاز کے کپتان کے پاس آیا اور اس سے کچھ پوچھنے لگا۔کپتان نے اسے میرے پاس بھیج دیا۔وہ مجھ سے گلے ملا۔بغل گیر ہو گیا اور کہا کہ وہ احمدی ہے اور درزی کا کام کرتا ہے۔اس نے بتایا کہ جب الفضل میں میں نے پڑھا کہ آپ آرہے ہیں اور رستے میں سنگا پور رکیں گے تو مجھے خواہش پیدا ہوئی کہ میں آپ کے لئے کوئی تحفہ پیش کروں۔اور آپ کی تصویریں میں نے دیکھی ہوئی تھیں۔قد کاٹھ کا اندازہ تھا۔میں نے آپ کے لئے کپڑوں کے دو جوڑے سے ہیں اور ایک اچکن اور ایک پگڑی تیار کی ہے۔درزی ہوں اور یہی کچھ پیش کر سکتا ہوں۔آپ اسے قبول کریں۔تو حضرت شاہ صاحب کہتے ہیں کہ یہ سن کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے کہ کس طرح میرے خدا نے میری خواہش کو پورا کرنے کے لئے ایک احمدی کے دل میں تحریک کی جسے میں نہیں جانتا تھا اور نہ وہ مجھے جانتا تھا۔وہ مبلغین کو ، مربیان کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اگر مبلغ صرف آستانہ الہی پر جھکا رہے اور کسی کے سامنے دستِ سوال دراز نہ کرے تو اللہ تعالیٰ غیب سے اس کے لئے سامان مہیا کر دیتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ واقفین زندگی سے ، صرف مبلغین نہیں، ہر واقف زندگی سے یہ سلوک کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے میدانِ عمل میں آج بھی یہ نظارے دیکھتے ہیں۔پھر مولانا غلام احمد صاحب فرخ کے بارہ میں ان کے ایک بیٹے نے لکھا کہ یہ بھی جماعت کی طرف سے بڑا عرصہ باہر مبلغ رہے ہیں۔جب واپس آئے تو حیدرآباد میں ان کی تعیناتی ہوئی۔وہاں جماعت کی طرف سے ایک چھوٹا سا مکان مل گیا اور اس کی بھی کافی خستہ حالت تھی۔کیونکہ یہ لمبا عرصہ باہر رہے تھے اس لئے ہم اس بات پر خوش تھے کہ ہمارے والد اب ہمارے ساتھ تو رہیں گے۔لیکن مکان کی حالت کو دیکھ کر ایک دن ان کے چھوٹے بھائی نے حضرت مولانا غلام احمد صاحب فرخ کو اپنی سمجھ کے مطابق کہہ دیا کہ اباجان جماعت کو درخواست کریں کہ مکان کی مرمت کروا دیں۔حضرت مولانا فرخ صاحب تو صرف اپنے وقف کو نبھانا جانتے تھے۔ان کو تو ان چیزوں سے کوئی غرض نہیں تھی۔انہوں نے بڑی محبت سے سارے بہن بھائیوں کو پاس بٹھایا اور بڑے طریقے سے ، بڑی حکمت سے ، بڑی دانائی سے واقفین کے گزر اوقات میں سادگی اور بودوباش میں عاجزی اور انکساری کو پیش کیا۔