خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 546
خطبات مسرور جلد ہشتم 546 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 ہے؟ فرمایا کہ آنحضرت صلی الی یوم کے صحابہ ایسے قانع اور جفاکش تھے کہ بعض اوقات صرف درختوں کے پتوں پر ہی گزر کر لیتے تھے“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 658) اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دعا اور خواہش کو پورا فرماتے ہوئے ایسے بزرگ مبلغین اپنے فضل سے عطا فرمائے ہیں جن کی قناعت قابلِ رشک تھی۔آج مبلغین کو سہولتیں بھی ہیں لیکن ایک وقت ایسا تھا جب سہولتیں نہیں تھیں۔جماعت کے مالی حالات بھی اب اچھے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر ممکن خیال رکھنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔گو بعض جگہ اب بھی تنگی اور مشکلات کا سامنا ہے لیکن جب دین کے لئے ہر قسم کی قربانی کے لئے اپنے آپ کو پیش کر دیا تو پھر ان مشکلات کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی اور نہ ہونی چاہئے۔آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے ربوہ اور قادیان کے علاوہ دنیا کے بعض مغربی ممالک میں بھی مثلاً UK میں، جرمنی میں، کینیڈا میں جامعات قائم ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ کینیڈا کے جامعہ سے اس سال مربیان کی پہلی کھیپ فارغ ہو رہی ہے جو میدانِ عمل میں آئیں گے۔اسی طرح انڈو نیشیا اور افریقہ کے بعض ممالک میں بھی جامعہ احمدیہ قائم ہیں۔جہاں تک افریقہ اور انڈو نیشیا وغیرہ کے جامعات کا تعلق ہے وہ تو وہیں کے رہنے والے طلباء ہیں جو عموماً وہیں تعینات بھی ہوتے ہیں۔اپنے ملکوں کے حالات میں گزارہ کرنے والے ہیں۔لیکن مغربی ممالک میں جو طلباء اب میدانِ عمل میں آرہے ہیں اور انشاء اللہ آئیں گے انہیں یا درکھنا چاہئے کہ بحیثیت واقف زندگی انہیں جہاں بھی بھیجا جائے انہوں نے تعمیل کرنی ہے اور جانا چاہئے۔یہی وقف کی روح ہے۔اور ضروری نہیں ہے کہ ان کو یورپ میں لگایا جائے۔ہو سکتا ہے کہ یہاں رہنے والے ادھر افریقہ میں بھیجے جائیں تو افریقہ کے سخت موسم سے پریشان ہو جائیں۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی خاطر وقف کر دیا تو پھر سختی کے لئے بھی تیار رہنا چاہئے۔جیسا کہ میں نے کہا اب سہولتیں بھی ہیں اور شروع میں جو مبلغین میدانِ عمل میں باہر گئے تھے ان کو بڑی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ان مبلغین کے بعض واقعات میں نے لئے ہیں تا کہ آپ کو احساس ہو کہ کس طرح وہ قربانی دیتے رہے اور کن حالات میں وہ گزارا کرتے رہے ہیں۔ہمارے ایک مبلغ تھے حضرت سید شاہ محمد صاحب۔انہوں نے اپنا واقعہ یہ بیان کیا ہے کہ میں متواتر اٹھارہ سال انڈو نیشیا میں کام کرتارہا اور اللہ کے فضل سے میں نے کبھی کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کیا۔اپنا پورا وقار رکھا۔بہت معمولی الاؤنس پر گزارہ ہوتا تھا۔مشکل سے شاید دو وقت کی روٹی چلتی ہو۔اپنی ہر حاجت کے لئے اپنے رب کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہا اور وہ میری حاجت روائی کرتا رہا۔کہتے ہیں جب اٹھارہ سال بعد میری واپسی ہوئی تو میں بڑا خوش تھا۔بحری جہاز کے ذریعے سے پاکستان کے لئے روانہ ہوا۔اور کہتے ہیں میرے پاس ایک پرانی اچکن تھی اور دو ایک شلوار قمیص کے دھلے ہوئے جوڑے تھے۔اور کچھ نہیں تھا۔کہتے ہیں میں بحری جہاز پر سفر کر رہا