خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 545
خطبات مسرور جلد ہشتم 545 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 جائزے لیتے رہیں کہ ہمارے علم اور عمل میں مطابقت ہے یا نہیں۔وعظ تو ہم کر رہے ہوں کہ نمازوں میں ستی گناہ ہے اور خود نمازوں میں سستی ہو۔خاص طور پر طلباء جامعہ احمد یہ جو ہیں ان کو یاد رکھنا چاہئے۔بعض عملی میدان میں آئے ہوئے بھی سستی کر جاتے ہیں ان کو بھی یاد رکھنا چاہئے۔دوسروں کو تو ہم یہ کہہ رہے ہوں کہ بد رسومات جو مختلف جگہوں پر ہوتی ہیں، مثلاً شادی بیاہ میں ہوتی ہیں یہ بدعات ہیں اور خلیفہ وقت اور نظام جماعت ان کی اجازت نہیں دیتا۔دین ان کی اجازت نہیں دیتا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سختی سے ان کو رڈ فرمایا ہے۔اللہ اور رسول ان کو رڈ کرتے ہیں۔لیکن اپنے بچوں یا اپنے عزیزوں کی شادیوں میں ان باتوں کا خیال نہ رہے یا ایسی شادیوں میں شامل ہو جائیں جن میں یہ بدر سومات کی جارہی ہوں اور وہاں بیٹھے رہیں اور نہ ان کو سمجھائیں اور نہ اٹھ کر آئیں تو یہ چیزیں غلط ہیں۔پس اگر دین کا علم سیکھا ہے تو اس لئے کہ عالم با عمل بنیں اور بننے کی کوشش کریں۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ واقف زندگی ایسے ہونے چاہئیں گی کہ ”نخوت اور تکبر سے بکلی پاک ہوں“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 682) اب ہر واقف زندگی جائزہ لے جو میدانِ عمل میں ہیں یا مختلف جگہوں پر کام کر رہے ہیں اور وہ بھی جو جامعات میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور جب ہمیں جائزے لینے کی یہ عادت پڑے تو پھر ایک تبدیلی بھی پیدا ہو گی انشاء اللہ تعالی۔اس سال کینیڈا کے جامعہ احمدیہ سے بھی واقفین نو کی اور مربیان کی، مبلغین کی پہلی کھیپ نکل رہی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ باقی جگہوں سے بھی واقفین نو میں سے نکلنی شروع ہو جائے گی بلکہ پاکستان میں تو ہو سکتا ہے کہ کچھ واقفین نو مربیان بن بھی چکے ہوں۔تو ہمیشہ یہ یادر کھیں کہ عاجزی اور انکساری ایک مبلغ کا خاصہ ہونا چاہئے لیکن و قار قائم رکھنا بھی ضروری ہے۔پھر آپ نے واقفین زندگی کو ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ ”ہماری کتابوں کا کثرت سے مطالعہ کرنے سے ان کی علمیت کامل درجہ تک پہنچی ہوئی ہو“۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 682) پس یہ نہیں فرمایا کہ پہنچائیں۔اتنا مطالعہ کریں کہ علمیت کامل درجہ تک پہنچی ہوئی ہو۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کتب کا مطالعہ جامعہ میں پڑھنے کے دوران بھی اور میدانِ عمل میں بھی انتہائی ضروری ہے۔کیونکہ یہی اس زمانے میں صحیح اسلامی تعلیم کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ قناعت شعار ہونا بھی ایک مبلغ اور مربی کے لئے ضروری ہے۔اور اس قناعت شعاری کے بارے میں جو معیار آپ نے مقرر فرمایا وہ یہ ہے کہ آپ فرماتے ہیں کہ اگر ہماری منشاء کے مطابق قناعت شعار نہ ہوں ، تب تک پورے اختیار بھی نہیں دے سکتے۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 682) یعنی جو قناعت شعار ہو گا اس کو اس تبلیغ کا، وقف زندگی کے کاموں کا اختیار دیا جا سکتا ہے۔اور منشاء کیا