خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 544
خطبات مسرور جلد ہشتم 544 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 بر وقت پورا کر سکتے ہیں۔اور پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بچے میں خود دین سیکھنے کی لگن ہو۔اگر یہ ہو گا تو پھر ہی صحیح فہم و ادراک بھی حاصل کرنے کی طرف توجہ ہو گی۔ورنہ مجبوری کا سیکھنا اور مجبوری کا وقف یہ فائدہ مند اور کارآمد نہیں ہو سکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ایسے لوگ ہونے چاہئیں جو تَفَقُه فِي الدِّين کریں۔یعنی آنحضرت صلی عظیم نے جو دین سکھایا ہے اس میں تفقہ کر سکیں۔(ماخوذاز تفسیر حضرت مسیح موعود جلد دوم صفحہ 649 زیر آیت تو بہ :122) پس ہمارے واقف زندگی اور خاص طور پر وہ جو دین سیکھ کر اپنی زندگیاں وقف کرنا چاہتے ہیں۔یا واقفین نوجو دنیا کے مختلف جامعات میں پڑھ رہے ہیں، انہیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت صلی علیہ ہم نے جو دین سکھایا ہے وہ سیکھنا ہے۔اور آپ نے کیا دین سکھایا؟ آپ نے ہمارے سامنے جو دین پیش کیا اور جس کا نمونہ قائم فرمایا اس کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا یہ بیان ہمارے لئے راہ عمل ہے کہ كَانَ خُلُقُهُ انقذان کہ آپ کا خُلق قرآن تھا۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 مسند عائشہ صفحہ نمبر 144-145 حدیث نمبر 25108) آپ کا دین قرآنِ کریم کے ہر حکم کو سمجھ کر اس پر عمل کرنا اور اسے پھیلانا تھا۔پس آپ کے اسوہ پر چلنے کا تو ہر مومن کو حکم ہے لیکن وہ لوگ جو تفقہ فی الدین کرنے والے ہیں، جو دین کو سمجھنے اور سیکھنے کا دعویٰ کرنے والے ہیں، جو عام مومنین سے بڑھ کر خیر کی طرف بلانے والے ہیں، جن سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ دوسروں کی نسبت بہت زیادہ نیکیوں کا حکم دینے والے اور برائیوں سے روکنے والے ہیں ان کو کس قدر اس اُسوہ پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔پس جو واقفین زندگی ہیں ان کو اپنا اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔اگر ہمارا یہ دعویٰ ہے کہ قرآن ایک مکمل شرعی کتاب ہے تو پھر تفقہ فی الدین کرنے والے اس بات کے سب سے زیادہ ذمہ دار ہیں کہ اپنی زندگیوں کو اس تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں تا کہ اپنی ذمہ داریاں صحیح طور پر ادا کر سکیں۔اپنے نمونے قائم کر کے خدا تعالیٰ کی طرف بلانے والے ہوں۔احسن رنگ میں تبلیغ اور تربیت کا فریضہ سر انجام دینے والے ہوں۔کس قسم کے واقفین زندگی ہونے چاہئیں اب میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خواہش رکھتا ہوں کہ آپ کیا چاہتے ہیں کہ کس قسم کے واقفین زندگی ہونے چاہئیں۔آپ فرماتے ہیں:۔ہمیں ایسے آدمیوں کی ضرورت ہے جو نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور سے کچھ کر کے دکھانے والے ہوں۔علمیت کا زبانی دعویٰ کسی کام کا نہیں“۔(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 682) پس یہاں میں تمام مبلغین اور جو دنیا کے مختلف جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہے ہیں ، ان پڑھنے والوں سے بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کو ہمیشہ پیش نظر رکھیں۔ہمیشہ اپنے