خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 543 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 543

خطبات مسرور جلد ہشتم 543 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 آپ کو پیش کرے گا اور خالص ہو کر دین کی خدمت کے لئے پیش کرنے کی کوشش کرے گا۔پس والدین کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ بچے کو وقف کے لئے تیار کرنا، اس کی تعلیم و تربیت پر توجہ دینا والدین کا کام ہے تا کہ ایک خوبصورت اور ثمر آور پودا بنا کر جماعت اور خلیفہ وقت کو خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت کے لئے پیش کیا جائے۔یہ جو بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ہمارا بچہ وقف نو ہے اس لئے ابتدا سے اس کو جماعت سنبھالے، یہ بالکل غلط سوچ ہے۔جماعت تعلیم و تربیت کے لئے رہنمائی تو ضرور کرتی ہے اور کرنی چاہئے۔اس کے لئے ربوہ میں مرکز میں وکالت وقف نو بھی قائم ہے۔قادیان میں نظارت تعلیم کے تحت وقف نو کا شعبہ قائم ہے۔یہاں لندن میں مرکزی طور پر براہ راست خلیفہ وقف کی نگرانی میں اس شعبہ کا کام ہو رہا ہے۔جماعتوں میں سیکر ٹریان وقف نو کی یہ ذمہ داری ہے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت، کونسلنگ اور گائیڈنس وغیرہ کریں اور ان کو ایک جماعت کا فعال حصہ بنانے کی کوشش کریں اور اس میں اپنا بھی فعال کردار ادا کریں۔لیکن ان سب کے باوجود والدین کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعت کی بڑھتی ہوئی ضروریات کے پیش نظر وقف نو کی سکیم کا اجراء ہوا تھا۔اور یہ ایک انتہائی اہم اور آئندہ جماعتی ضروریات کو پوری کرنے والی سکیم ہے جس میں علاوہ مختلف مربیان و مبلغین کے مستقبل میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے واقفین زندگی کی ضرورت ہو گی۔پس والدین اور وقف نو کے شعبہ کو اس ذمہ داری میں اپنا کر دار ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔اکثر جگہ دیکھا گیا ہے کہ سیکر ٹریان وقف نو اس طرح فعال نہیں جس طرح ان کو ہونا چاہئے۔پس وہ فعال ہوں تاکہ یہ بچے جب میدانِ عمل میں آئیں تو میدان میں آکر قوموں کو اپنے لوگوں کو ، تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کا اہم کردار ادا کر سکیں۔اور فلاح پانے والے گروہ میں خود بھی شامل ہوں اور نہ صرف خود فلاح پانے والے بنیں بلکہ دنیا کی فلاح اور بقا کا باعث بنیں۔بے شک والدین کا بھی یہ کام ہے کہ اپنے ہر بچے کی تربیت کریں اور کوئی احمدی بچہ بھی ضائع ہو نا جماعت برداشت نہیں کر سکتی۔یہ سب جماعت اور قوم کی امانت ہیں۔لیکن واقفین نو بچوں کے ذہن میں بچپن سے ہی یہ ڈالا جائے کہ تمہیں ہم نے خدا تعالیٰ کے راستے میں وقف کیا ہے۔صرف وقف نو کا ٹائٹل مل جانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ تمہاری تربیت ، تمہاری تعلیم، تمہارا اٹھنا بیٹھنا، تمہارا بات چیت کرنا، تمہارا لوگوں سے ملنا جلنا، تمہیں دوسروں سے ممتاز کرے گا۔یہ عادتیں پھر عمر کے ساتھ ساتھ پختہ ہوں اور کوئی انگلی کبھی تمہاری کردار کشی کرتے ہوئے نہ اٹھے۔پھر واقفین نو کا سلیبس ہے جو جماعت نے ، مرکز نے بنایا ہوا ہے۔اس سے آگاہ کرنا، اسے پڑھانا ماں باپ اور نظام دونوں کا کام ہے تا کہ تفقہ فی الدین میں بچپن سے ہی رجحان ہو اور اس میں ہر آنے والے دن میں بہتری آتی رہے۔تبھی ہم آئندہ آنے والے چیلنجوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔تبھی ہم دنیا کی دین کو سمجھنے کی ضرورت کو