خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 542
خطبات مسرور جلد ہشتم 542 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 اکتوبر 2010 میں سے متفرق قسم کے لوگوں میں سے یہ ایک گروہ ہونا چاہئے۔اور پھر مزید وسعت پیدا کریں تو فرمایا کہ ہر قوم میں سے ایسے لوگ ہوں جو دین سیکھیں اور آگے سکھائیں۔ہر قوم اور ہر گروہ اور ہر طبقے کے مزاج، نفسیات اور طریق مختلف ہوتے ہیں۔اس کے مطابق تبلیغ کا طریق اختیار کیا جائے۔اس طرح تبلیغ کرنی بھی آسان رہے گی اور تربیت بھی آسان رہے گی۔بہر حال یہ رہنمائی اللہ تعالیٰ نے فرمائی کہ مومنوں کا ایک گروہ ہو جو تبلیغی اور تربیتی کام سر انجام دے اور پھر یہ کہ ہر قوم اور ہر طبقے کے لوگوں میں سے ہوتا کہ اس کام میں سہولت پیدا ہو سکے۔پس جماعت احمدیہ میں اس اصول کے تحت دین کی خاطر زندگی وقف کرنے کا نظام قائم ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا مختلف قوموں اور طبقوں کے لوگ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں اور بن رہے ہیں۔اور جیسا کہ میں نے کہا کہ جماعتی ضروریات بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس تعداد میں اضافے کی بھی ضرورت ہے اور یہ ضرورت آئندہ بڑھتی بھی چلی جائے گی۔فی الحال صرف موجودہ وقت میں ضرورت نہیں ہے بلکہ آئندہ اس ضرورت نے مزید بڑھنا ہے۔واقفین نو کی سکیم حضرت خلیفتہ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس ضرورت کو بھانپتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی پاکر واقفین نو کی سکیم شروع فرمائی تھی۔اور اس کی بنیادی اینٹ ہی تقویٰ پر رکھتے ہوئے والدین کو یہ تحریک فرمائی تھی کہ بجائے اس کے کہ بچے بڑے ہو کر اپنی زندگیاں وقف کریں اور اپنے آپ کو پیش کریں، والدین دین کا در درکھتے ہوئے اور تقویٰ پر قائم ہوتے ہوئے اپنے بچوں کو ان کی پیدائش سے پہلے دین کی راہ میں وقف کرنے کے لئے پیش کریں۔اور حضرت مریم کی والدہ کی طرح یہ اعلان کریں کہ رَبّ اِنّى نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِيْ (آل عمران :36) کہ اے میرے ربّ! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے اسے میں نے تیری نذر کرتے ہوئے آزاد کر دیا۔یعنی دین کے کام کے لئے پیش کر دیا اور دنیاوی دھندوں سے آزاد کر دیا، پس مجھ سے یہ قبول کر لے۔پس جب خاص طور پر مائیں اس دعا کے ساتھ اپنے بچے جماعت کو پیش کرتی ہیں، خلیفہ وقت کے سامنے پیش کرتی ہیں اور کریں گی، تو ان کی بہت بڑی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ پھر ان بچوں کی تربیت اس طرح کریں کہ وہ اپنی زندگیاں خدا کی راہ میں اس وقف کا حق ادا کرتے ہوئے گزارنے کے لئے پیش کریں۔پورا عرصہ حمل ان کے لئے یہ دعا ہو کہ اللہ تعالیٰ اس بچے کو دین کا خادم بنائے۔دنیاوی آلائشوں سے پاک رکھے۔دنیا کی طرف رغبت نہ ہو بلکہ یہ لوگ دین کے لئے خالص ہو جائیں۔پھر پیدائش کے بعد بچے کی تعلیم و تربیت اس نہج پر ہو کہ اس بچے کو ہر وقت یہ پیش نظر رہے اور اس کو یہ باور بھی کروایا جائے کہ میں واقف زندگی ہوں اور میں نے دنیاوی جھمیلوں میں پڑنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے دین کی خدمت میں زندگی گزارنی ہے۔جب اس طرح ابتدا سے ہی تربیت ہو گی تو نوجوانی میں قدم رکھ کر بچہ خود اپنے