خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 38
خطبات مسرور جلد ہشتم 38 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 جنوری 2010 آنحضرت صلی اللہ ہم نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ الْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِّنَ الْإِيْمَانِ کہ حیا بھی ایمان کا ایک حصہ ہے۔(مسلم کتاب الایمان باب شعب الایمان وافضلها۔۔۔حدیث نمبر 59) پس ہر احمدی نوجوان کو خاص طور پر یہ پیش نظر رکھنا چاہئے کہ آج کل کی برائیوں کو میڈیا پر دیکھ کر اس کے جال میں نہ پھنس جائیں ورنہ ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔انہی بیہودگیوں کا اثر ہے کہ پھر بعض لوگ جو اس میں ملوث ہوتے ہیں تمام حدود پھلانگ جاتے ہیں اور اس وجہ سے پھر بعضوں کو اخراج از جماعت کی تعزیر بھی کرنی پڑتی ہے۔ہمیشہ یہ بات ذہن میں ہو کہ میرا ہر کام خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے ، آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا : بے حیائی ہر مر تکب کو بد نما بنادیتی ہے اور شرم و حیاہر حیادار کو حسن و سیرت بخشتا ہے اور اسے خوبصورت بنادیتا ہے۔( ترمذی کتاب البر والصلۃ باب ما جاء فی الفحش والتفحش۔حدیث نمبر 1974) پس یہ خوبصورتی ہے جو انسان کے اندر نیک اعمال کو بجالانے اور اس کی تحریک سے پیدا ہوتی ہے۔ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی شرم دل میں ہو جیسا کہ اس سے شرم کرنے کا حق ہے۔صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں شرم بخشی ہے۔آنحضرت صلی الی ہم نے فرمایا: یوں نہیں۔بلکہ جو شخص شرم رکھتا ہے وہ اپنے سر اور اس میں سمائے ہوئے خیالات کی حفاظت کرے۔(یہ شرم ہے کہ اپنے دماغ میں آنے والے خیالات کی حفاظت کرو)۔پیٹ اور جو اس میں خوراک بھرتا ہے اس کی بھی حفاظت کرے۔موت اور ابتلا کو یاد رکھنا چاہئے۔جو شخص آخرت پر نظر رکھتا ہے وہ دنیوی زندگی کی زینت کے خیالات کو چھوڑ دیتا ہے۔پس جس نے یہ طرز زندگی اختیار کیا اس نے واقعی خدا کی شرم رکھی۔(ترمذی کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق والورع باب 24/ 89 حدیث نمبر 2458) آنحضرت صلی اللہ علم کا یہ فرمان ہے۔پس ذہن میں آنے والے ہر خیال کو اللہ تعالیٰ کی شرم لئے ہوئے آنا چاہئے۔اگر کوئی بد خیال آتا بھی ہے تو اسے فوری طور پر جھٹکا جانا چاہئے۔استغفار کے ذریعہ سے اس کو جھٹکنا چاہئے۔جب خیالات پاکیزہ ہوں گے تو عمل بھی پاک ہوں گے۔پھر لغویات ایسے انسانوں پر کوئی اثر نہیں ڈال سکیں گی۔اسی طرح انسان اپنی روزی کے بھی حلال ذرائع استعمال کرے۔محنت کرے۔محنت سے کمائے۔بجائے اس کے کہ دوسروں کے پیسے پر نظر رکھ کر چھینے کی کوشش کرے یا غلط طریق سے پیسے کمائے۔پاکستان وغیرہ میں رشوت وغیرہ بھی بڑی عام ہے یہ سب حلال کی کمائیاں نہیں ہیں۔آپ نے یہی فرمایا کہ اپنے پیٹ اور اس میں جو خوراک بھرتا ہے اس کی بھی حفاظت کرے۔پس جائز کمائی سے اپنا بھی اور اپنے بیوی بچوں کا بھی پیٹ پالے اور ایسے ہی لوگ ہیں جو پھر اللہ اور اس کے رسول پر صحیح ایمان لانے والے ہوتے ہیں۔