خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 538 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 538

خطبات مسرور جلد هشتم 538 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 عذابوں سے ڈرنا چاہئے اگر وہ اپنی اصلاح نہ کریں کیونکہ اکثر لوگوں میں یہ تمام مواد موجود ہیں۔محض حلم الہی نے مہلت دے رکھی ہے۔اور یہ فقرہ کہ جَرِى الله فِي حَلَلِ الأنْبِيَاءِ بہت تفصیل کے لائق ہے“۔فرمایا کہ ”جو کچھ خدا تعالیٰ نے گزشتہ نبیوں کے ساتھ رنگارنگ طریقوں میں نصرت اور تائید کے معاملات کئے ہیں ان معاملات کی نظیر بھی میرے ساتھ ظاہر کی گئی ہے اور کی جائے گی“۔پس یہ سلسلہ ختم نہیں ہوا۔مستقل چل رہا ہے۔مستقبل کی بھی خبریں ہیں اور کی جائیں گی۔پھر فرمایا کیونکہ زمانہ اپنے اندر ایک گردش دوری رکھتا ہے اور نیک ہوں یا بد ہوں بار بار دنیا میں ان کے امثال پیدا ہوتے رہتے ہیں۔اور اس زمانہ میں خدا نے چاہا کہ جس قدر نیک اور راستباز مقدس نبی گزر چکے ہیں ایک ہی شخص کے وجود میں ان کے نمونے ظاہر کئے جائیں سو وہ میں ہوں۔اسی طرح اس زمانہ میں تمام بدوں کے نمونے بھی ظاہر ہوئے، فرعون ہو یا وہ یہود ہوں جنہوں نے حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھایا یا ابو جہل ہو سب کی مثالیں اس وقت موجود ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یا جوج ماجوج کے ذکر کے وقت اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔“ بر این احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد نمبر 1 2 صفحہ 116 تا 118) آپ تنبیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ”اے سونے والو بیدار ہو جاؤ، اے غافلو! اٹھ بیٹھو کہ ایک انقلاب عظیم کا وقت آگیا۔یہ رونے کا وقت ہے نہ سونے کا، اور تضرع کا وقت ہے نہ ٹھیٹھے اور ہنسی اور تکفیر بازی کا۔دعا کرو کہ خداوند کریم تمہیں آنکھیں بخشے۔تا تم موجودہ ظلمت کو بھی بتمام و کمال دیکھ لو۔اور نیز اس نور کو بھی جو رحمتِ الہیہ نے اس ظلمت کے مٹانے کے لئے تیار کیا ہے۔پچھلی راتوں کو اٹھو اور خدا تعالیٰ سے رو رو کر ہدایت چاہو۔اور ناحق حقانی سلسلے کے مٹانے کے لئے بد دعائیں مت کرو۔اور نہ منصوبے سوچو۔خد اتعالیٰ تمہاری غفلت اور بھول کے ارادوں کی پیروی نہیں کرتا۔وہ تمہارے دماغوں اور دلوں کی بے وقوفیاں تم پر ظاہر کرے گا۔اور اپنے بندہ کا مددگار ہو گا۔اور اس درخت کو کبھی نہیں کاٹے گا جس کو اس نے اپنے ہاتھ سے لگایا ہے۔کیا کوئی تم میں سے اپنے اس پودہ کو کاٹ سکتا ہے جس کے پھل لانے کی اس کو توقع ہے۔پھر وہ جو داناو بینا اور ارحم الراحمین ہے وہ کیوں اپنے اس پودے کو کاٹے جس کے پھلوں کے مبارک دنوں کی وہ انتظار کر رہا ہے۔جب کہ تم انسان ہو کر ایسا کام کرنا نہیں چاہتے۔پھر وہ جو عالم الغیب ہے جو ہر ایک دل کی تہہ تک پہنچا ہوا ہے کیوں ایسا کام کرے گا۔پس تم خوب یاد رکھو کہ تم اس لڑائی میں اپنے ہی اعضاء پر تلواریں مار رہے ہو۔سو تم نا حق آگ میں ہاتھ مت ڈالو۔ایسا نہ ہو کہ وہ آگ بھڑ کے اور تمہارے ہاتھ کو بھسم کر ڈالے۔یقیناً سمجھو کہ اگر یہ کام انسان کا ہو تا تو بہتیرے اس کے نابود کرنے والے پیدا ہو جاتے“ فرمایا: ”کیا تمہاری نظر میں کبھی کوئی ایسا مفتری گزرا ہے کہ جس نے خدا تعالیٰ پر ایسا افتراء کر کے کہ وہ مجھ سے ہم کلام ہے پھر اس مدت مدید کے سلامتی کو پالیا ہو۔افسوس کہ تم کچھ بھی نہیں سوچتے اور قرآنِ