خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 537 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 537

خطبات مسرور جلد ہشتم 537 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 جڑیں عوام میں بڑی گہری ہیں۔یا مجھے فلاں عرب ملک کی بادشاہت کی پشت پناہی حاصل ہے جو اسلام کے محافظ ہیں۔یا فلاں مغربی ملک کی حکومت کی ہمیں اشیر باد حاصل ہے۔جب کوئی خدا تعالیٰ کے فرستادے اور اس کی جماعت کے مقابلے پر آئے گا تو نہ عوام کی حمایت کام آئے گی ،نہ کسی کی دولت اور مددکام آئے گی ، نہ اپنے قبیلے کام آئیں گے۔یہ سب لوگ جو اپنے زعم میں پہاڑوں کی طرح مضبوط جڑوں پر قائم ہیں ہوا میں بکھیر دیئے جائیں گے۔بلکہ جن کی حمایت پر زعم ہے وہ بھی بکھر جائیں گے۔یہ اللہ تعالیٰ کی پیشگوئی ہے اور ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی تاریخ میں ایسے پہاڑوں کو بکھر تا ہوا دیکھ چکے ہیں۔پھر اس سورۃ میں سے یہ جو آخری آیت میں نے لی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَإِذَا الرُّسُلُ اقتت جب رسول وقت مقررہ پر لائے جائیں گے، یہ پھر مسیح و مہدی کی آمد کی پیشگوئی ہے کہ تمام رسول لائے جائیں گے۔یعنی ایک شخص کھڑا ہو گا جو تمام رسولوں کی نمائندگی کرے گا۔جس کے آنے کی پیشگوئی ہر پہلے رسول نے کی ہے۔اپنے اپنے وقت میں انہوں نے کی تھی اور یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات میں پوری ہو گئی۔اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاما بھی فرمایا کہ جَرِى الله فِی حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ یعنی اللہ کا پہلو ان تمام انبیاء کے پیرائے میں۔( براہین احمدیہ روحانی خزائن جلد 1 صفحه 601 حاشیه در حاشیه ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میری نسبت براہین احمدیہ کے حصص سابقہ میں یہ بھی فرمایا ہے۔جَرِى الله فِي حُلَلِ الْأَنْبِيَاءِ- یعنی رسولِ خدا تمام گزشتہ انبیاء علیہم السلام کے پیرایوں میں۔اس وحی الہی کا مطلب یہ ہے کہ آدم سے لے کر اخیر تک جس قدر انبیاء علیہم السلام خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا میں آئے ہیں۔خواہ وہ اسرائیلی ہیں یا غیر اسرائیلی ، ان سب کے خاص واقعات یا خاص صفات میں سے اس عاجز کو کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ایک بھی نبی ایسا نہیں گزرا جس کے خواص یا واقعات میں سے اس عاجز کو حصہ نہیں دیا گیا۔ہر ایک نبی کی فطرت کا نقش میری فطرت میں ہے۔اسی پر خدا نے مجھے اطلاع دی اور اس میں یہ بھی اشارہ پایا جاتا ہے کہ تمام انبیاء علیہم السلام کے جانی دشمن اور سخت مخالف جو عناد میں حد سے بڑھ گئے تھے جن کو طرح طرح کے عذابوں سے ہلاک کیا گیا اس زمانے کے اکثر لوگ بھی ان سے مشابہ ہیں اگر وہ تو بہ نہ کریں“۔( ان سے مشابہتیں ہیں۔پس اگر ان کو ہلاک کیا گیا تو وہ سزائیں اب بھی آسکتی ہیں۔یہ انذار جو ہے وہ اب بھی قائم ہے۔) غرض اس وحی الہی میں یہ جتلا نا منظور ہے کہ یہ زمانہ جامع کمالات اخیار و کمالات اشرار ہے۔اور اگر خد اتعالیٰ رحم نہ کرے تو اس زمانے کے شریر تمام گزشتہ عذابوں کے مستحق ہیں۔یعنی اس زمانے میں تمام گزشتہ عذاب جمع ہو سکتے ہیں اور جیسا کہ پہلی امتوں میں کوئی قوم طاعون سے مری، کوئی قوم صاعقہ سے، اور کوئی قوم زلزلہ سے اور کوئی قوم پانی کے طوفان سے اور کوئی قوم آندھی کے طوفان سے اور کوئی قوم خسف سے۔اسی طرح اس زمانے کے لوگوں کو ایسے