خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 536 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 536

خطبات مسرور جلد ہشتم 536 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 ہے مٹادیے جائیں گے۔پس ان کی روشنی تو ہو گی ہی نہیں۔اور جس کے پاس روشنی نہ ہو اس نے کیا ر ہنمائی کرنی ہے ؟ یہ لوگ تو خوب دنیا داری میں پڑ گئے ہوئے ہیں۔اگر دیکھیں تو صرف ایک کام ان کا رہ گیا ہے کہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دو۔کل سے ربوہ میں بھی پھر ایک ختم نبوت کا نفرنس ہو رہی ہے۔نام نہاد ختم نبوت کا نفرنس۔جس میں تمام بڑے بڑے مولوی، جماعت اسلامی کے امیر بھی اور دوسرے علماء بھی شامل ہوئے ہیں، اور جو اب تک کی رپورٹیں ہیں ، سب تقریروں میں جماعت کے خلاف مغلظات ہی بک رہے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں۔پس یہ ستاروں کا ماند پڑ جانا عربی محاورہ ہے، جس کا یہی مطلب ہے کہ علماء دین سے بے بہرہ ہو جائیں گے یا لغات میں لکھا ہے کہ جب آفات ان پر پڑتی تھیں تو اس وقت کہا کرتے تھے کہ ستارے ماند پڑ گئے۔پس یہاں اس کا یہ مطلب ہے کہ علماء تو بے دین ہو کر روشنی کے بجائے اندھیرا پھیلانے والے بن گئے اور لوگوں کو گمراہ کر دیا اور اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اللہ تعالیٰ کے بندہ کے ذریعہ سے جو اتمام حجت اور انذار کیا جائے۔اور اس پر بھی جب انہوں نے توجہ نہیں دی تو پھر اللہ تعالیٰ کی اپنی تقدیر بھی چلتی ہے ، قدرتی آفات بھی آتی ہیں۔رات کے اندھیروں میں تاروں کی چمک اور روشنی جو تھوڑی بہت آتی ہے وہ بھی غائب ہو جاتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ زمانہ ہے وَإِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ کہ جب آسمان میں شگاف پڑ جائیں گے۔ایک تو اس کا سائنسی دنیا سے تعلق ہے۔اس زمانہ میں نئی نئی وسعتوں کا بھی پتہ لگ رہا ہے ، نئی کائناتوں کا پتہ لگ رہا ہے ، نئے سیاروں کا پتہ لگ رہا ہے۔پھر آج کل اوزون Ozone) کی layer میں سوراخوں کا شور ہے۔حکومتیں بھی پارہ پارہ کر دی جائیں گی بہر حال ان سے تو موسمی تغیرات پیدا ہو رہے ہیں لیکن روحانی دنیا میں بھی اس سے مراد مسیح موعود کے آنے کی خبر ہے۔کیونکہ علماء کے جب ستارے ماند پڑ جاتے ہیں اور ایسی حالت میں جب اندھیرے پھیل جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے فرستادہ کے ذریعے سے روشنی بھیجتا ہے۔اور اس روشنی کو پانے کے بعد اس فرستادہ کے ذریعہ جماعت قائم ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی کو بھی اور بعض ان کے ماننے والوں کو بھی الہامات اور رؤیا صادقہ کا اظہار شروع ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ جب ہمارے فرستادہ کے آنے سے روحانی سلسلہ شروع ہو گا تو علماء روک بن جائیں گے۔یہ سلسلہ تو شروع ہو گا ہو جائے گا۔پھر آگے فرمایا یہ علماء روک نہیں بن سکیں گے۔ان سب کی بقاء اسی میں ہے کہ اس روحانی سلسلہ کو تسلیم کر لیں۔ان علماء کی اور ان کے پیچھے چلنے والوں کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو بڑے بڑے جبال ہیں، جو اپنے آپ کو پہاڑوں کی طرح مضبوط سمجھنے والے ہیں اور حکومتیں بھی ہیں وہ اگر اس فرستادہ کے سامنے کھڑی ہوں گی، اللہ کے پیاروں کے سامنے کھڑی ہوں گی تو پارہ پارہ کر دی جائیں گی۔فرمایا کہ وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَت پہاڑ جڑوں سے اکھیڑ دیئے جائیں گے۔کوئی یہ نہ سمجھے کہ میری