خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 527
خطبات مسرور جلد ہشتم 527 42 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 15 اکتوبر 2010ء بمطابق 15 اخاء 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: وَالْمُرْسَلَتِ عُرُفًا فَالْعُصِفْتِ عَصْفًا - وَ النُّشِرَاتِ نَشْرًا - فَالْفَرِقْتِ فَرْقًا - فَالْمُلْقِيتِ و ذكرًا - عُدْرًا أَوْ نُذرًا إِنَّمَا تُوعَدُونَ لَوَاقِعَ - فَإِذَا النُّجُومُ طُمِسَتْ وَ إِذَا السَّمَاءُ فُرِجَتْ وَإِذَا الْجِبَالُ نُسِفَتْ وَإِذَا الرُّسُلُ أَقتَتْ (المرسلت: 2 تا 12) ان آیات کا ترجمہ یہ ہے کہ قسم ہے پے بہ پے بھیجی جانے والیوں کی۔پھر بہت تیز رفتار ہو جانے والیوں کی۔اور پیغام کو اچھی طرح نشر کرنے والیوں کی۔پھر واضح فرق کرنے والیوں کی۔پھر انتباہ کرتے ہوئے صحیفے پھینکنے والیوں کی۔حجت یا تنبیہ کے طور پر۔یقینا جس سے تم ڈرائے جارہے ہو لازم ہو کر رہنے والا ہے۔پس جب ستارے ماند پڑ جائیں گے۔اور جب آسمان میں طرح طرح کے سوراخ کر دیئے جائیں گے۔اور جب پہاڑ جڑوں سے اکھیڑ دیئے جائیں گے۔اور جب رسول مقررہ وقت پر لائے جائیں گے۔ان آیات میں جہاں آنحضرت صلی علیم کے زمانہ میں اور آپ کے صحابہ کے ذریعے اسلام کے پھیلنے کی خبر ہے جو اپنے نقطہ عروج کو پہنچ کر ان پیشگوئیوں کو روزِ روشن کی طرح واضح کر گئیں وہاں ان آیات میں آنحضرت علی ایم کے عاشق صادق کے زمانہ اور آپ کی آمد کی پیشگوئی بھی ہے۔جب صحابہ والا تقویٰ مفقود ہونے کے بعد اسلام کی کشتی کو سنبھالنے کے لئے مسیح موعود اور مہدی موعود نے مبعوث ہو کر پھر اسلام کی نشاة ثانیہ کا آغاز کر کے اسلام کو، اسلام کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کا کام سر انجام دے کر اسلام کی کھوئی ہوئی ساکھ کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنا تھا۔جماعت کی ترقی پس آج یہ آیات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت اور آپ کی قائم کر دہ جماعت کی ترقی کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ان آیات میں بیان کردہ کچھ پیشگوئیاں بھی ہیں جو ہم اس زمانہ میں پوری ہوتی دیکھ رہے ہیں