خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 517 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 517

خطبات مسرور جلد ہشتم 517 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 ہیں اور متکبر لوگ ہیں۔یہ شیطان کے بندے ہیں۔اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق اپنے بد انجام کو پہنچنے والے ہیں۔پاکستان اور مذہبی شدت پسندی بد قسمتی سے ہمارے ملک پاکستان میں (چونکہ بہت سارے پاکستانی اس وقت میرے سامنے ہیں دنیا میں اکثر جگہ پاکستانی غور سے خطبہ سنتے ہیں ) اکثریت مسلمانوں کی ہے۔مسلمان اکثریت کا ملک ہے۔یہ ملک آج ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں یر غمال بن چکا ہے جنہیں خدا تعالیٰ کے ان احکامات سے دُور کا بھی واسطہ نہیں جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اور جن باتوں کو کرنے سے روکا ہے وہ وہاں عام ہو رہی ہیں۔وہ طبقہ آج سیاستدانوں کے سروں پر بھی سوار ہے۔اور اس نے انتظامیہ کے کندھوں پر بیٹھ کر ان کی گردن کو اپنے شکنجے میں لیا ہوا ہے۔اور اس کا نتیجہ ہمیں ہر روز کی آگوں اور فسادوں اور قتل و غارت کی صورت میں نظر آرہا ہے۔بلکہ کہنا چاہئے کہ پورا نظام ہی چاہے سیاستدان ہیں، انتظامیہ ہے یا کوئی اور ہے ان فسادیوں کے رنگ میں رنگین ہو چکا ہے۔پاکستان بننے سے لے کر آج تک خلفائے احمدیت سیاستدانوں اور عوام کو اس طرف توجہ دلاتے رہے کہ ہمیشہ اس طبقہ سے ہوشیار رہو جو کسی بھی صورت میں مذہبی شدت پسندی کی طرف ملک کو لے جانا چاہتا ہے۔عوام تو اپنی کم علمی اور معصومیت اور اسلام سے محبت کی وجہ سے ان شدت پسندوں کے دھوکوں میں آتے گئے۔پھر غربت اور افلاس نے وہاں کے جو اکثر غریب لوگ ہیں ان کو سوچنے کا موقع نہیں دیا۔اور سیاستدان اپنے مفادات کی خاطر مذہبی جبہ پوشوں سے معاہدے کرتے رہے یا ان کو اس حد تک آزادی دے دی کہ اب سیاستدانوں کے خیال میں بغیر ان کے ان کی سیاست چمک نہیں سکتی، وہ کامیاب نہیں ہو سکتے۔ہر پارٹی یہ سمجھتی ہے کہ کسی نہ کسی مذہبی جبہ پوش کی حمایت کے بغیر اس کی بقا نہیں ہے۔جانتے بوجھتے ہوئے نام نہاد اسلام کے ٹھیکے داروں کو غیر ضروری اہمیت دے کر پاکستان میں لاقانونیت کے حالات پیدا کر دیئے گئے ہیں جو روز بروز بڑھتے چلے جارہے ہیں۔سول (Civil) انتظامیہ ہے تو وہ مجبور ہے بلکہ اب تو ایسے خطر ناک حالات ہیں کہ رینجر ز جو کسی زمانے میں امن قائم کرنے کے لئے بڑی اہم سمجھی جاتی تھی اور فوج جو ہے ان کی بھی ان دہشت گرد اور شدت پسند تنظیموں کے سامنے جدید ہتھیاروں کے لحاظ سے کوئی حیثیت نہیں۔ان حالات میں ایک احمدی ہے جس کا دل بے چین ہو تا ہے کہ وہ ملک جسے ہم نے ہزاروں جانوں کی قربانی سے حاصل کیا تھا اس کا ان مفاد پرستوں اور خود غرضوں اور اسلام اور خدا کے نام پر ظلم و تعدی میں بڑھنے والوں نے یہ حال کر دیا ہے۔گو ظاہری لحاظ سے باوجود کوشش کے احمدی اس ملک کو ظالموں سے نجات دلانے کے لئے کچھ نہیں کر سکتا۔لیکن وطن کی محبت، ہر پاکستانی احمدی کی وطن کی محبت اس سے یہ ضرور تقاضا کرتی ہے اور یہ ہر پاکستانی احمدی کا فرض بھی ہے کہ ہم ملک کے لئے دعا کریں، کوشش کریں۔چاہے جتنا بھی اہل وطن یا کم از کم اپنے آپ کو سب سے زیادہ ملک کا وفادار سمجھنے والے نام نہاد لوگ جتنا بھی ہم پر وطن دشمنی کا الزام لگالیں، ہم پر ہر قسم کا ظلم بھی روار کھیں، ہم نے وطن کی محبت کے تقاضے کو پورا کرتے ہوئے ملک کے لئے دعا