خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 516
خطبات مسرور جلد ہشتم 516 41 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 اکتوبر 2010 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 اکتوبر 2010ء بمطابق 08 اخاء 1389 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: تِلكَ الدَّارُ الْآخِرَةُ نَجْعَلُهَا لِلَّذِينَ لَا يُرِيدُونَ عُلُوًّا فِي الْأَرْضِ وَ لَا فَسَادًا وَ الْعَاقِبَةُ لِلْمُتَّقِينَ (القصص: 84) وَجَحَدُوا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَا أَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَعُلُوا فَانْظُرُ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِينَ (النمل: 15) یہ دو آیات جو میں نے تلاوت کی ہیں، ایک سورۃ فصص کی چوراسیویں آیت ہے اور دوسری سورۃ نمل کی پندرھویں آیت۔پہلی آیت سورۃ قصص کی ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ: یہ آخرت کا گھر ہے جسے ہم ان لوگوں کے لئے بناتے ہیں جو زمین میں نہ اپنی بڑائی چاہتے ہیں اور نہ فساد، اور انجام تو متقیوں کا ہی ہے۔(دوسری آیت کا ترجمہ یہ ہے ) اور انہوں نے ظلم اور سرکشی کرتے ہوئے ان کا انکار کر دیا حالانکہ ان کے دل ان پر یقین لاچکے تھے ، پس دیکھ فساد کرنے والوں کا کیسا انجام ہو تا ہے۔نیکی اور بدی، عاجزی اور بڑائی، امن و محبت اور فتنہ و فساد، اطاعت اور بغاوت اور اس طرح کی بہت سی باتیں نیکی میں بھی اور برائیوں میں بھی ہمیں نظر آتی ہیں۔ان میں ایک حصہ رحمان خدا کا پتہ دے کر اس سے تعلق جوڑنے والوں کی نشانی ہے تو دوسری شیطان کی گود میں گرنے والوں کا پتہ دیتی ہے۔گویا یہ دو مخالف سمتیں ہیں۔اللہ تعالیٰ جن نیکیوں کے کرنے کا حکم دیتا ہے شیطان ان سے روکتا ہے۔اور جن برائیوں سے خدا تعالیٰ روکتا ہے شیطان ان کے کرنے کا حکم دیتا ہے۔یہ نافرمانی شیطان کی سرشت میں ہے جس کو ایک جگہ خدا تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے کہ إِنَّ الشَّيْطَنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِيَّا ( مریم : 45) کہ شیطان یقیناً خدائے رحمان کا نافرمان ہے۔اور شیطان چلنے والے یقیناً خد اتعالیٰ کی پکڑ میں آتے ہیں۔یہ دو آیات جن کا ترجمہ میں نے بیان کیا ہے۔آپ نے تلاوت بھی سنی۔ان میں دو قسم کے لوگوں کا ذکر ہے۔ایک وہ جو بڑائی اور فساد سے بچتے ہیں۔یہ رحمان کے بندے ہیں۔اور دوسرے وہ جو ظلم اور فساد کرنے والے