خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 513
513 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ یکم اکتوبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم اکثریت میں ہونی چاہئے۔انصار اللہ کا نام جو چالیس سال سے اوپر کی مردوں کی تنظیم کو دیا گیا ہے اور جو پیغام نَحْنُ انْصَارُ اللہ کے اعلان میں ہے وہ یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر غیر معمولی قربانی پیش کرنے کے لئے بھی تیار ہیں۔اور دین کے قیام کے لئے ہم اپنی ہر کوشش اور ہر صلاحیت اور ہر ذریعہ بروئے کار لانے کے لئے تیار ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں فرمایا ہے کہ دین کا پھیلاؤ تو دعاؤں کے ذریعے سے ہونا ہے۔تبلیغ کے ساتھ ساتھ دعاؤں نے ایک بہت بڑا کردار ادا کرنا ہے۔پس دعاؤں کی طرف ایک خاص جوش کے ساتھ ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔انصار اللہ کی عمر ایک تو پختہ عمر ہے اس میں عارضی اور جذباتی کوششوں پر اکتفا نہیں کرنا چاہئے بلکہ اپنے مستقل جائزے لیتے ہوئے اس حق کو ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جس کا ادا کر نا ہم پر فرض ہے۔دعاؤں کا حق، نمازوں اور نوافل کے ذریعے ہی صحیح طور پر ادا ہو سکتا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ ایک احمدی قرآنِ شریف کی حکومت کو بکلی اپنے سر پر قبول کرے گا۔قرآنِ حکیم کی حکومت قبول کرنے کے لئے اس سے ایک خاص تعلق جوڑنے کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کے اس کلام کو روزانہ پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔پس انصار اللہ کی تنظیم میں شامل ہر شخص اس بات کی پابندی کرے کہ میں نے قرآنِ کریم کی تلاوت ہر صورت میں روزانہ کرنی ہے۔اسی طرح لجنہ ہے، خواتین ہیں، ان کا بھی فرض ہے۔یہ حکم صرف انصار اللہ کے لئے نہیں ہے۔جماعت کے ہر فرد کے لئے ہے اور خاص طور پر وہ لوگ، عور تیں اور مرد جنہوں نے اگلی نسلوں کو سنبھالنا ہے ان پر خاص فرض ہے کہ اپنے نمونے قائم کریں اور روزانہ تلاوت کریں۔پھر اس کا ترجمہ بھی سمجھنا ہے۔تو جہاں ہم میں سے ہر ایک اس وجہ سے اپنے علم میں اضافے اور برکات سے فیض یاب ہونے کے سامان کر رہا ہو گا وہاں یہ پاک نمونہ اپنے بچوں کے سامنے پیش کر کے انہیں بھی خدا تعالیٰ کے اس کلام ے تعلق جوڑنے کا سامان کر رہا ہو گا۔یہ شرائط بیعت کا خلاصہ جو میں نے بیان کیا ہے، جیسا کہ میں نے کہا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر میں یہ ایک احمدی کا کم از کم معیار ہے اور انصار اللہ کو تو ان باتوں کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔عورتوں کی ذمہ داری اسی طرح ہماری عورتیں ہیں وہ گھر کی نگرانی کی حیثیت سے اسی طرح اپنے بچوں کی تربیت کی ذمہ دار ہیں جیسے مرد بلکہ مردوں سے بھی زیادہ۔کیونکہ بچے کی ابتدائی عمر جو ہے ماں کے قرب میں اور اس کی گود میں گزرتی ہے۔سکول جانے والا بچہ ہے۔وہ بھی گھر میں آکر ماں کے پاس ہی اکثر وقت رہتا ہے۔تو ماؤں کی بھی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔اگر ماؤں کی اپنی دینی تربیت ہے۔ان کو خود دین کا علم ہے تو بچے ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں