خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 499 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 499

499 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 ستمبر 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم متعین ہوں گے ، انشاء اللہ۔اگر انہوں نے اس جذبہ کو جاری رکھا اور جو وسیع تعارف ہو گیا ہے اس سے فائدہ اٹھایا تو انشاء اللہ تعالیٰ مسیح محمدی کے یہ چند غلام مسیح موسوی کے وحدانیت سے دور ہٹے ہوئے لوگوں کو ایک دن خدائے واحد کے آگے جھکنے والا بنا دیں گے ، انشاء اللہ۔پس جہاں ایک طرف بعض ملکوں میں اصحاب کہف والی صورت حال فکر میں ڈالتی ہے تو دوسری طرف كتب الله لاغلِبَنَ اَنَا وَرُسُلى (المجادله : 22) - ( اللہ تعالیٰ نے فرض کر چھوڑا ہے کہ میں اور میرارسول غالب آئیں گے۔) کی جو نوید ہے یہ تسلی دلاتی ہے۔مسیح موسوی کے اصحاب کہف کے دور کے بعد جو عیسائیت پھیلی تو شرک کے پھیلانے کا باعث بن گئی۔لیکن مسیح محمدی کے ماننے والوں کو تین سو سال گزرنے سے بہت پہلے انشاء اللہ تعالیٰ غلبہ ملے گا۔اور یہ غلبہ بھی شرک کو جڑ سے اکھاڑ کر توحید کے قیام کا باعث ہو گا۔انشاء اللہ۔پس ہمیں کوئی مایوسی نہیں ہے۔دنیائے احمدیت میں وسعت آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیائے احمدیت میں بہت وسعت آچکی ہے۔اگر چند ملکوں میں احمدیوں کے حقوق اور آزادی کو سلب کیا گیا ہے تو آسٹریلیا، افریقہ، امریکہ ، اور جزائر کے رہنے والے احمدی آزادی کی زندگی بھی گزار رہے ہیں۔ان کے لئے صحیح اسلامی تعلیم پر عمل کرنے اور اسے اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے کے راستے کھلے ہیں۔تبلیغ کے میدان بھی کھلے ہیں۔پس ان ممالک کے رہنے والے احمدیوں سے میں کہتا ہوں کہ اس سہولت، واوو کشائش اور آزادی اور آزاد زندگی کو اپنے مقصود کے حصول کا ذریعہ بنالیں۔اللہ تعالیٰ نے وَ زِدْ نَهُمْ هُدًى کے الفاظ صرف اصحاب کہف کے لئے استعمال نہیں کئے بلکہ یہ اصول بیان کیا ہے کہ جو بھی اپنے ایمان کی حفاظت کرے گا، دین پر قائم رہنے کی کوشش کرے گا، اللہ تعالیٰ اسے ہدایت میں بڑھاتا چلا جائے گا۔ان کے ایمان میں ترقی دیتا چلا جائے گا۔اس بات کو اللہ تعالیٰ نے سورۃ انفال میں یوں بھی بیان فرمایا ہے۔فرماتا ہے: إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ إِذَا ذُكِرَ اللهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ اللهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا وَ عَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ (الانفال:3) مومن صرف وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل ڈر جاتے ہیں اور جب ان پر اس کی آیات پڑھی جاتی ہیں تو وہ ان کو ایمان میں بڑھا دیتی ہیں اور وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔پھر فرمایا کہ: الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ وَيُقِيمُونَ الصَّلوةَ وَمِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقرة:4) وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور اس میں سے ہی جو ہم نے ان کو عطا کیا ہے وہ خرچ کرتے ہیں۔پھر آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ: أُولَبِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُونَ حَقًّا لَهُمْ دَرَجَتْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَمَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ کریم (الانفال: 5) کہ یہی ہیں جو کھرے اور سچے مومن ہیں۔ان کے لئے ان کے رب کے حضور بڑے درجات ہیں اور مغفرت ہے اور بہت عزت والا رزق بھی۔