خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 496
خطبات مسرور جلد ہشتم 496 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 24 ستمبر 2010 بِرَبِّهِمْ وَزِدْنَهُمْ هُدًى (الكيف : 14) ہم تیرے سامنے ان کی خبر سچائی کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔یقیناً وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے اور ہم نے انہیں ہدایت میں ترقی دی۔اور پھر اس کی وضاحت میں اگلی آیت بھی ہے وَ رَبَطْنَا عَلَى قُلُوبِهِمْ إِذْ قَامُوا فَقَالُوا رَبُّنَا رَبُّ السَّمَوتِ وَ الْأَرْضِ لَنْ نَدْعُوا مِنْ دُونِةِ الهَا لَقَدْ قُلْنَا إِذًا شَطَطًا ( الكهف : 15) اور ہم نے ان کے دلوں کو تقویت بخشی جب وہ کھڑے ہوئے۔پھر انہوں نے کہا ہمارا رب تو آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ہم ہر گز اس کے سوا کسی کو معبود نہیں پکاریں گے۔اگر ایسا ہو تو ہم یقیناً اعتدال سے ہٹی ہوئی بات کہنے والے ہوں گے۔پس توحید کے قیام کے لئے انہوں نے کوشش کی۔ظلم سہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت سے وحدانیت پر قائم رکھے اور ہدایت کے راستے پر ہم چلتے رہیں۔اس سے پہلے قرآنِ کریم میں جو آیات ہیں ان سے پہلی آیت میں یہ ذکر ہے کہ آج کل کے عیسائی وحدانیت کو چھوڑ کر ایک شخص کو خدا کا بیٹا بنائے بیٹھے ہیں جو سراسر جھوٹے نظریات اور جھوٹی تعلیم ہے اور جس کا عیسائیت کی اصل تعلیم سے کوئی واسطہ نہیں۔یہ ایسی خطرناک بات ہے جو یقیناً انہیں سزا کا مورد بنائے گی۔حقیقی تعلیم جس کے لئے عیسائیوں نے قربانی دی، تثلیث کی تعلیم نہیں تھی بلکہ وحدانیت کی تعلیم تھی۔پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے مختلف ادوار اور حالات کا نقشہ کھینچنے کے بعد بیان فرمایا کہ ان کے اس ایمان لانے اور ایک خدا پر یقین کرنے کی وجہ سے ہم نے انہیں ہدایت پر قائم رکھا اور ان کے دلوں کو مضبوط کیا۔اور وہ ایک خدا کی پرستش کرنے کا اعلان کرتے رہے اور اس کی عبادت کرتے رہے۔انہوں نے اس بات سے سخت بیزاری کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہے۔لیکن پھر زمانہ کے اثر کے تحت، حکومتوں کے اثر کے تحت عیسائیت نے آہستہ آہستہ تثلیث کی صورت اختیار کر لی، اس میں بگاڑ پیدا ہو گیا۔غلط لوگوں کے ہاتھ میں جب عیسائیت کی باگ ڈور چلی گئی تو پھر تثلیث کا نظریہ پیدا ہوا اور دنیا داری نے ان کے دین پر قبضہ کر لیا۔ان شرک کرنے والوں کے لئے خدا تعالیٰ نے آگ میں ڈالے جانے کا انذار فرمایا ہے۔عیسائیت کی حفاظت کرنے والے نوجوان تھے بہر حال ان آیات کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عیسائیت جب تک اپنی اصلی حالت پر قائم رہی اس کی حفاظت کرنے والے نوجوان تھے اور انہوں نے ایمان کی حفاظت کی۔اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ایمان کی وجہ سے، ان کے ظالم حکمرانوں کے سامنے اپنے دین کی حفاظت کی وجہ سے، صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کو معبودِ حقیقی ماننے کی وجہ سے ان کو ہدایت یافتہ رکھا۔انہوں نے کسی دنیاوی انعام کی پرواہ نہیں کی بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کو مقدم رکھا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ چند نوجوان جو تھے ان کے ساتھ ہم نے ان کے ایمان کی وجہ سے کیا سلوک کیا؟ فرمایا