خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 495 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 495

خطبات مسرور جلد ہشتم 495 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 24 ستمبر 2010 قائم ہیں کہ یہ حالات ہمیشہ کے لئے نہیں ہیں۔انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن یہ ظلم بھی اور ظالم بھی صفحہ ہستی سے مٹادیئے جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں صبر ، استقامت اور دعا سے کام لیتے چلے جانے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔اجتماع کے حوالہ سے یہ باتیں جو ہیں مجھے ان کا ذکر اصل میں تو اجتماع کے موقع پر کرنا چاہئے تھا۔اور ہر سال میں اجتماع کی مناسبت سے متعلقہ ذیلی تنظیموں کو ان کے حوالہ سے مخاطب بھی ہو تا ہوں۔لیکن مجھے اس دفعہ خیال آیا کہ جمعہ پر اس حوالے سے بھی ذکر کر دوں۔کیونکہ ایک تو پاکستان کے مرکزی اجتماع میں افتتاحی اور اختتامی خطابات خلیفہ وقت کے ہوتے تھے۔دوسرے اجتماع کے موقع پر جو میری اختتامی تقریر ہوتی ہے، وہ عموماً براہِ راست ایم۔ٹی۔اے سے نشر نہیں ہوتی بلکہ کچھ دنوں کے بعد ہفتہ دس دن بعد نشر ہوتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ اس کو ایک بڑی تعد اد نہ سن سکتی ہو۔تیسرے جہاں جہاں بھی اجتماعات ہو رہے ہیں وہ اس خطبہ کو اپنے لئے بھی پیغام سمجھتے ہوئے ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور پاکستان کے مظلوم احمدیوں کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھ رکھیں۔اور چوتھے جہاں جہاں نئی جماعتیں یا ذیلی تنظیمیں اور مجالس قائم ہو رہی ہیں وہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے براہِ راست باتیں سن کر ان سے استفادہ کرنے کی کوشش کریں۔بہر حال اب میں اس حوالہ سے خدام الاحمدیہ کو خصوصاً اور ہر فردِ جماعت کو عموماً چند باتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔نوجوانوں کے حوالہ سے قرآن میں ذکر قرآنِ کریم میں دین کی خدمت، اصلاح اور توحید کے قیام کے لئے نوجوانوں کے حوالہ سے سورۃ کہف میں دو جگہ ذکر آیا ہے۔یہ وہ نوجوان تھے جو مسیح موسوی کے ماننے والے تھے جو تقریباً تین سو سال تک سختیاں اور ظلم سہتے رہے۔اس قدر سختیاں ان پر ہوئیں کہ لمبا عرصہ ان کو غاروں میں چھپ کر رہنا پڑا۔غاروں میں بھی حکومتِ وقت کے کارندے ان کا پیچھا کر کے قتل و غارت کرتے رہے۔لیکن دین اور توحید کی خاطر وہ لوگ یہ ظلم برداشت کرتے رہے۔جب حالات کچھ بہتر ہوتے تھے تو باہر بھی آجاتے تھے۔لیکن ظلم کی جو حالت تھی یا حالات تھے ، ان سے انہیں وقتا فوقتا گزرنا پڑتا تھا۔بہر حال توحید کے قیام اور دین کی حفاظت کے لئے ان لوگوں کی کوشش اس قابل تھی کہ اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کو قرآن کریم میں بھی محفوظ فرما لیا۔اس حوالہ سے جن دو آیتوں کا میں نے ذکر کیا ہے وہ میں پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے : اِذْ أَوَى الْفِتْيَةُ إِلَى الْكَهْفِ فَقَالُوا رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَ هَيِّئْ لَنَا مِنْ اَمْرِنَا رَشَدًا ( الكهف : 11) جب چند نوجوانوں نے ایک غار میں پناہ لی تو انہوں نے کہا ”اے ہمارے رب! ہمیں اپنی جناب سے رحمت عطا کر اور ہمارے معاملے میں ہمیں ہدایت عطا کر “۔پھر دوسری جگہ دو آیتیں چھوڑ کے ذکر ہے کہ : نَحْنُ نَقُصُّ عَلَيْكَ نَبَاهُم بِالْحَقِّ إِنَّهُمْ فِتْيَةُ آمَنُوا