خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 482
خطبات مسرور جلد ہشتم 482 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 دے۔ہمیں اپنے خالص عبد رحمان بنادے۔ہمارے سینے اپنی محبت میں سرشار کر دے۔ہمارے اعمال واقوال عمدہ اور صاف کر دے۔جو تیرے چہرے اور تیرے حکم پر قربان ہونے والے ہوں۔ہم تیرے پیارے رسول صلی علیہ یکم پر فدا ہونے والے بن جائیں۔آپ صلی علیہ کم پر تیرے حکم کے مطابق درود بھیجنے والے بن جائیں۔میرے مسیح موعود کو جن کو تُو نے اس زمانے میں اپنے وعدے کے مطابق بھیجا ہے، آپ کے ساتھ کامل اطاعت کا نمونہ دکھانے والے بن جائیں۔آپ کو حکم اور عدل مانتے ہوئے آپ کے ہر حکم پر لبیک کہنے والے ہوں۔اے خدا! ہم پھر عرض کرتے ہیں کہ ہمارے سینے اپنی محبت اور اپنے پیاروں کی محبت سے بھر دے۔ہماری کمزوریوں کو دور فرما۔شیطان کے تسلط سے ہمیں ہمیشہ بچا۔ہم وہ قوم بن جائیں جو تیرے پیار کو ہمیشہ جذب کرنے والے ہیں۔ہمیں تمام ابتلاؤں اور دکھوں سے بچا۔اور تمام مصیبتوں سے ہمیں محفوظ رکھ۔اے ہمارے خدا! یہ ہماری عاجزانہ دعا ہے کہ دنیا کے سینے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کے قبول کرنے کے لئے کھول دے۔اور تمام مسلمانوں کو امتِ واحد بنادے۔تمام فتنے اور فساد جنہوں نے مسلمانوں کو گھیر اہوا ہے ان سے مسلمانوں کو نکال۔ان کی آنکھیں کھول تاوہ تیرے مسیح موعود اور مہدی موعود کو پہچان لیں۔اے اللہ ! دنیا کو عقل دے کہ وہ زمانے کے امام کو پہچان کر آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچ جائیں۔آمین یارب العالمین۔آج پھر ایک افسوسناک خبر ہے۔مکرم نصیر احمد بٹ صاحب جو مکرم اللہ رکھا بٹ صاحب کے بیٹے تھے اور فیصل آباد میں رہتے تھے ، ان کو پرسوں 8 ستمبر کو شہید کر دیا گیا ہے۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔نصیر احمد بٹ صاحب کے دادا غلام محمد صاحب قادیان کے قریب موضع ڈلہ کے رہنے والے تھے اور آپ کے خاندان میں آپ کے دادا کے ذریعے سے احمدیت آئی تھی۔ان کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے دور میں بیعت کی سعادت ملی تھی۔نصیر صاحب کی تعلیم تھوڑی تھی۔ان کی اپنی دکان تھی۔یہ پھل بیچنے کا کام کیا کرتے تھے۔8 ستمبر کو ساڑھے گیارہ بجے دن کے قریب یہ اپنی دکان پر بیٹھے تھے اور ایک موٹر سائیکل سوار آیا جس نے ہیلمٹ پہنا ہوا تھا اور اس نے پستول نکال کر دو تین فٹ کے فاصلے سے فائر کئے۔پانچ گولیاں شہید کے سینے میں لگیں اور ایک گولی چہرے پر لگی جس سے موقع پر شہید ہو گئے۔اس وقت دکان پر ملازم بھی موجود تھا اور بہت سارے گاہک بھی موجود تھے۔بڑی دکان تھی اور وہ جگہ بھی ایسی ہے کہ جہاں بازار میں کافی رش ہوتا ہے۔لیکن ملزم بڑی آسانی سے وہاں سے فائر کرنے کے بعد چلا گیا۔شہادت کے وقت آپ کی عمر 51 سال تھی۔نہایت مخلص اور ایماندار، نظام خلافت سے عشق رکھنے والے تھے۔مربیان سے بھی غیر معمولی تعلق کا اظہار کرتے تھے۔ان کی اہلیہ نے لکھا ہے کہ اگر کبھی خطبہ براہِ راست نہ سن سکتے اور miss ہو جاتا تو آ کے پھر پوچھتے تھے کہ کیا خطبہ آیا تھا اور اس کے پھر خاص خاص پوائنٹ