خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 481
خطبات مسرور جلد ہشتم کرتا ہوں کہ : 481 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ایک دعا تھی اس سے استفادہ کرتے ہوئے میں یہ دعا آخر میں پیش اے میرے مالک میرے قادر میرے پیارے میرے مولیٰ میرے رہنما اے زمین و آسمان کے خالق اور اس میں موجود ہر چیز پر تصرف رکھنے والے۔اے خدا جس نے لاکھوں انبیاء اور کروڑوں رہنماؤں کو دنیا کی ہدایت کے لئے بھیجا۔اے وہ علی وَ كَبِيرُ خدا جس نے آنحضرت علی ای کم جیسا عظیم الشان نبی دنیا میں مبعوث فرمایا، اے وہ رحمان خدا جس نے مسیح جیسار ہنما آنحضرت صلی الی یوم کی غلامی میں آپ کی امت میں امت کی رہنمائی کے لئے پیدا فرمایا۔اے نور کے پیدا کرنے والے اور ظلمت کے مٹانے والے! ہم تیرے عاجز بندے تجھ سے تیرے وعدوں کا واسطہ دے کر جو تو نے اپنے محبوب اور سب سے پیارے رسول اور ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد صلی علی کم سے کئے ہیں۔نیز ان وعدوں کا واسطہ دے کر جو تو نے حضرت محمد رسول اللہ صلی للی نام کے غلام صادق اور عاشق صادق سے کئے ہیں۔تیرے حضور عاجزی سے جھکتے ہوئے یہ فریاد کرتے ہیں کہ ان وعدوں کے پورا ہونے کے الشان نشان ہمیں دکھا۔ہم اس بات پر علی وجہ البصیرت یقین رکھتے ہیں کہ تو سچے وعدوں والا ہے۔تو یقیناً اپنے عظ وعدے پورے کرے گا۔لیکن ہمیں یہ خوف بھی دامنگیر ہے کہ ہماری نالائقیوں اور ناسپاسیوں کی وجہ سے یہ وعدے پورے ہونے کا وقت آگے نہ چلا جائے۔تیری رحمانیت اور تیری رحیمیت کا واسطہ دے کر تجھ سے یہ عرض کرتے ہیں۔ہمارے عملوں سے چشم پوشی فرماتے ہوئے ہمارے گناہوں اور ظلموں کے باوجود ہمیں اپنے انعاموں اور احسانوں سے اس طرح نو از تا چلا جا جس طرح تو نے ہمیشہ سے ہم سے سلوک رکھا ہے۔باوجود اس کے کہ ہم نے اپنا حق اس طرح ادا نہ کیا جو حق ادا کرنے کا حق ہے۔مگر تو ہمیشہ اپنی رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہم پر برسا تارہا۔اور ہمارے ایمانوں کو مضبوط تر کر تا رہا۔میں آج پھر عاجزانہ طور پر تیرے سامنے پھر یہ عرض کرتا ہوں کہ اے رحمان خدا! اے وہاب خدا! اے ستار العیوب خدا! اے غفور الرحیم خدا! اپنی رحمانیت اور وہابیت کے ے کبھی ہم پر بند نہ کرنا ہمارے عیبوں اور ہماری کمزوریوں سے ہمیشہ پردہ پوشی فرمانا۔ہم پر بخشش اور رحم کی نظر رکھنا۔اور جس سلوک سے ہمیں اب تک نوازتا رہا ہے اس کو کبھی بند نہ کرنا۔ہم تجھ سے ہر اس خیر کے طالب ہیں جو تو نے کسی کے لئے بھی مقدر کی ہے۔بلکہ ہر وہ خیر جس کا تو مالک ہے محض اور محض اپنے فضل سے عطا فرما۔اے میرے خدا! میں تیری تمام صفات کا واسطہ دے کر تجھ سے عرض کرتا ہوں کہ ان کی خیر سے ہمیں متمتع فرما۔اے ہمارے پیارے خدا! ہم نہایت درد دل کے ساتھ اور سچی تڑپ کے ساتھ تیرے حضور جھکتے ہوئے یہ عرض کرتے ہیں کہ ہماری دعاؤں کو رحم فرماتے ہوئے اپنے وعدے کے مطابق کہ ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔ہماری دعاؤں کو سن۔ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان جو تیری عبادت سے بیزار ہیں، بعد المشرقین پیدا کر