خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 479 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 479

خطبات مسرور جلد ہشتم 479 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے ان مومن بھائیوں کو بخش دے جو ایمان میں ہم سے سبقت لے گئے ، اور اپنے نبی اور حبیب محمدصلی علی یم اور آپ کی آل پر رحمتیں بھیج اور ہمیں آپ کے امتی ہونے کی حالت میں موت دے اور ہمیں آپ کی اُمت میں ہی اٹھانا اور تو نے ان اُمت سے جو وعدہ کیا ہے وہ ہمیں عطا فرما۔اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے۔پس ہمیں اپنے مومن بندوں میں لکھ لے۔(مکتوبات احمد یہ جلد اول صفحہ نمبر 627 مکتوب نمبر 6 5 بنام میر عباس علی شاہ صاحب) ربِّ سَلِّطْنِي عَلَى النَّارِ۔اے میرے خدا! مجھے آگ پر مسلط کر دے۔( تذکرہ صفحہ نمبر 518 ایڈ یشن چہارم ربوہ) ہم تیرے گناہگار بندے ہیں اور نفس غالب ہے، تو ہم کو معاف فرما اور آخرت کی آفتوں سے ہم کو بچا۔( بدر جلد 2 نمبر 3) اے رب العالمین! تیرے احسانوں کا میں شکر نہیں کر سکتا۔تو نہایت ہی رحیم و کریم ہے اور تیرے بے غایت مجھ پر احسان ہیں۔میرے گناہ بخش تا میں ہلاک نہ ہو جاؤں۔میرے دل میں اپنی خاص محبت ڈال تا مجھے زندگی حاصل ہو اور میری پردہ پوشی فرما اور مجھ سے ایسے عمل کرا جن سے تو راضی ہو جائے۔میں تیری وجہ کریم کے ساتھ اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ تیر اغضب مجھ پر وارد ہو۔رحم فرما اور دنیا اور آخرت کی بلاؤں سے مجھے بچا کہ ہر ایک فضل و کرم تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔آمین ثم آمین پھر آپ کا ایک الہام ہے:۔ا حکم - 20 فروری 1898ء جلد نمبر 2 نمبر 1 ( ملفوظات جلد اول صفحہ 103) رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا إِنَّا كُنَّا خَاطِئِینَ۔اے ہمارے رب! ہمارے گناہ بخش ، ہم خطا پر تھے۔ایک جگہ آپ تحریر فرماتے ہیں: (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ نمبر 104) اے ہمارے رب العزت ! ہمارے گناہوں کو بخش دے اور ہماری بلاؤں کو دور فرما اور تکالیف کو بھی دور فرما، اور ہمارے دلوں کو ہر قسم کے غموں سے نجات بخش اور کفیل ہو ہماری مصیبتوں کا۔اور ہمارے ساتھ ہو جہاں پر بھی ہم ہوں۔اے ہمارے محبوب اور ڈھانپ دے ہمارے ننگ کو اور امن میں رکھ ہمارے خطرات کو۔اور ہم نے تو کل کیا تجھ پر اور ہم نے تیرے سپرد کیا اپنا معاملہ ، تو ہی ہمارا آقا ہے۔دنیا میں اور آخرت میں اور تو ارحم الراحمین ہے قبول فرما۔اے رب العالمین۔(تحفہ گولڑویہ روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ نمبر 182) پھر ایک جگہ فرمایا : ”اے خداوند قادر مطلق اگر چہ قدیم سے تیری یہی عادت اور یہی سنت ہے کہ تو بچوں اور امیوں کو سمجھ