خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 477 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 477

خطبات مسرور جلد ہشتم 477 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْتَلُكَ حُبَّكَ وَ حُبّ مَنْ يُحِبُّكَ وَالْعَمَلَ الَّذِي يُبَلِّغُنِي حُبَّكَ اللهُمَّ اجْعَلْ حُبَّكَ اَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَاهْلِي وَمِنَ الْمَاءِ الْبَارِدِ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری محبت مانگتا ہوں اور اس کی محبت بھی جو تجھ سے محبت کرتا ہے اور میں تجھ سے ایسے عمل کی توفیق مانگتا ہوں جو مجھے تیری محبت تک پہنچا دے۔اے اللہ میرے دل میں اپنی اتنی محبت ڈال دے جو میری اپنی ذات ، میرے اہل اور ٹھنڈے پانی سے بھی زیادہ ہو۔(سنن الترمذی کتاب الدعوات باب 000 / 73 حدیث نمبر 3490) يَا مُصْرِفَ القُلوبِ ثَبِتْ قَلْبِي عَلى طَاعَتِكَ۔اے دلوں کو پھیرنے والے! میرے دل کو اپنی اطاعت پر قائم رکھ۔(مسند احمد بن حنبل جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 499 مند ابی ھریرۃ حدیث نمبر 9410 عالم الكتب بيروت طبع اول 1998) اللہ تعالیٰ ہمیں ان دعاؤں سے جو میں نے کی ہیں استفادہ کرنے کی ہمیشہ توفیق دیتا چلا جائے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی کچھ دعائیں پیش کرتا ہوں۔یہ بعض الہامی دعائیں ہیں۔پہلی دعا ہے رَبِّ كُلَّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِيْ وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي اے میرے رب ہر ایک چیز تیری خادم ہے۔اے میرے رب پس مجھے محفوظ رکھ اور میری مدد فرما اور مجھ پر رحم فرما۔(حقیقۃ الوحی روحانی خزائن جلد نمبر 22 صفحہ نمبر 224) پھر آپ نے ایک دعا لکھی ہے کہ ”اے میرے قادر خدا! اے میرے پیارے رہنما! تو ہمیں وہ راہ دکھا جس سے تجھے پاتے ہیں اہل صدق وصفا۔اور ہمیں ان راہوں سے بچا جن کا مد عاصرف شہوات ہیں یا کینہ، یا بغض، یا دنیا کی حرص و ہوا“۔(پیغام صلح روحانی خزائن جلد نمبر 23 صفحہ نمبر 439) میں گناہگار ہوں اور کمزور ہوں۔تیری دستگیری اور فضل کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا۔تو آپ رحم فرما اور مجھے گناہوں سے پاک کر۔کیونکہ تیرے فضل و کرم کے سوا اور کوئی نہیں ہے جو مجھے پاک کرے۔( بدر جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 41) يَا أَحَبَّ مِنْ كُلِّ مَحْبُوبِ اِغْفِرْلِيْ ذُنُوبِى وَادْخِلْنِي فِي عِبَادِكَ الْمُخْلَصِيْنَ اے محبوبوں سے محبوب ذات ! میرے گناہ مجھے بخش دے اور مجھے اپنے مخلص بندوں میں شامل فرما۔(مکتوبات احمد جلد دوم مکتوب نمبر 120 ملفوف بنام منشی رستم علی صاحب صفحہ 539 ضیاء الاسلام پر یس ربوہ ) کسی سوال کرنے والے نے آپ سے یہ سوال کیا کہ نماز میں حصولِ حضور کا کیا طریقہ ہے؟ کس طرح توجہ پوری طرح پیدا کی جاسکتی ہے ؟ تو آپ نے یہ دعا اسے لکھ کر بھجوائی کہ : اے خدائے تعالیٰ قادر و ذوالجلال میں گناہگار ہوں اور اس قدر گناہ کی زہر نے میرے دل اور رگ وریشہ میں اثر کیا ہے کہ مجھے رقت اور حضورِ نماز حاصل نہیں ہو سکتا۔تو اپنے فضل و کرم سے میرے گناہ بخش۔اور