خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 473
خطبات مسرور جلد ہشتم 473 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 ہمارے قدم ہر آن آگے سے آگے بڑھتے چلے جائیں۔نیز اللہ تعالیٰ ظالم گروہوں اور ظالم حکمرانوں سے بھی ہمیں نجات بخشے۔ایسے فرعونوں سے ہمیں نجات بخشے جو طاقت کے نشے میں آج احمد یوں پر ظلم روار کھے ہوئے ہیں اور ان کی خود پکڑ فرمائے۔پھر سورۃ قمر کی ایک آیت میں یہ دعا ہے۔أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرُ (سورۃ القمر : 11) کہ میں یقیناً مغلوب ہوں۔پس میری مدد کر۔رَبِّ نَجْنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (القصص:22) اے میرے رب ! مجھے ظالم قوم سے نجات بخش۔رَبِّ إِنَّ قَوْمِي كَذَبُونِ (الشعراء: 118)۔اے میرے رب! میری قوم نے مجھے جھٹلا دیا ہے۔فافتح بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ فَتْحًا وَ نَجِنِي وَمَنْ مَّعِيَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ (سورة الشعراء: 119) و در ورود پس میرے در میان اور ان کے درمیان واضح فیصلہ کر دے اور مجھے نجات بخش اور ان کو بھی جو مومنوں میں سے میرے ساتھ ہیں۔انبیاء اور ان کی جماعتوں کا اصل ہتھیار تو دعا ہی ہے اور اس زمانے میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے واضح فرما دیا ہے کہ ہماری کامیابی، ہماری فتوحات دعا کے ذریعے سے ہوئی ہیں۔نہ کہ کسی ہتھیار سے ، نہ کسی احتجاج سے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ نمبر 36 جدید ایڈیشن ربوہ) نہ کسی اور ذریعے سے۔پس دعاؤں کو مستقل مزاجی سے کرتے چلے جانا یہی ہمارا فرض ہے اور یہی ہماری کامیابی کی ضمانت ہے۔پھر یہ دعا سکھائی۔فرمایا کہ ربّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَتِ الشَّيطِينِ (المومنون: 98) اے میرے رب! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔وَ اَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ (المومنون: 99)۔اور اس بات سے میں تیری پناہ مانگتا ہوں اے میرے رب! کہ وہ میرے قریب پھٹکیں رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَ تَوَفَّنَا مُسْلِمِينَ (الاعراف: 127)۔اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل اور ہمیں مسلمان ہونے کی حالت میں وفات دے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ”اے خدا! اس مصیبت میں ہمارے دل پر وہ سکینت نازل کر جس سے صبر آجائے اور ایسا کر کہ ہماری موت اسلام پر ہو۔جاننا چاہئے کہ دکھوں اور مصیبتوں کے وقت میں خدا تعالیٰ اپنے پیارے بندوں کے دل پر ایک نور اتارتا ہے جس سے وہ قوت پا کر نہایت اطمینان سے مصیبت کا مقابلہ کرتے ہیں اور حلاوتِ ایمانی سے ان زنجیروں کو بوسہ دیتے ہیں جو اس کی راہ میں ان کے پیروں میں پڑیں“۔(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 420,421)