خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 472 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 472

خطبات مسرور جلد ہشتم 472 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 پھر یہ دعا ہے رَبِّ اغْفِرُ وَارْحَمْ وَ اَنْتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ (المومنون: 119) اے میرے رب ! بخش دے اور رحم کر اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ (المومنون: 110) اے ہمارے رب! ہم ایمان لے آئے۔پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم کر۔اور تو رحم کرنے والوں میں سب سے بہتر ہے۔رَبِّ نَجْنِي وَ أَهْلِى مِمَّا يَعْمَلُونَ (الشعراء: 170) اے میرے رب ! مجھے اور میرے اہل کو اس سے نجات بخش جو وہ کرتے ہیں۔رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَ نَجِنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهِ وَ نَجْنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ ( التحريم:12) اے میرے رب! میرے لئے اپنے حضور جنت میں ایک گھر بنا دے، اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ان ظالم لوگوں سے نجات بخش۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ اس کی اس طرح وضاحت فرمائی ہے کہ : قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے مومن کی دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ایک مثال فرعون کی عورت سے ہے جو کہ اس قسم کے خاوند سے خدا کی پناہ چاہتی ہے“۔( یعنی فرعون سے )۔یہ ان مومنوں کی مثال ہے جو نفسانی جذبات کے آگے گر گر جاتے ہیں“۔(ان کے جو نفسانی جذبات ہیں وہ فرعون کی طرح نیکیوں سے روکنے والے ہوتے ہیں)۔اور غلطیاں کر بیٹھتے ہیں ، (پھر) پچھتاتے ہیں، تو بہ کرتے ہیں، خدا سے پناہ مانگتے ہیں۔ان کا نفس فرعون سے خاوند کی طرح ان کو تنگ کرتا رہتا ہے۔وہ لوگ نفس لوامہ رکھتے ہیں۔بدی سے بچنے کے لئے ہر وقت کوشاں رہتے ہیں۔دوسرے مومن وہ ہیں جو اس سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں۔وہ صرف بدیوں سے ہی نہیں بچتے بلکہ نیکیوں کو حاصل کرتے ہیں۔ان کی مثال اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم سے دی ہے۔اَحْصَنَتْ فَرَجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنا (التحریم : 13)۔ہر ایک مومن جو تقویٰ و طہارت میں کمال پیدا کرے وہ بروزی طور پر مریم ہوتا ہے۔اور خدا اس میں اپنی روح پھونک دیتا ہے جو کہ ابنِ مریم بن جاتی ہے“۔ایسے فرعونوں سے ہمیں نجات بخشے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر 522,523 جدید ایڈیشن ربوہ ) اللہ تعالیٰ ہمیں وہ مومن بنائے جو نیکیوں کو حاصل کرنے والے ہوں اور اس رمضان میں جو نیکیاں ہم نے حاصل کرنے کی کوشش کی ہے ان میں دوام حاصل کرنے والے بنتے چلے جائیں اور تقویٰ اور طہارت میں