خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 470
خطبات مسرور جلد ہشتم 470 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 ستمبر 2010 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کا ترجمہ اپنے الفاظ میں اس طرح فرمایا ہے کہ: ”مومن وہ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے خدا! ہمیں اپنی بیویوں کے بارے میں اور فرزندوں کے بارے میں دل کی ٹھنڈک عطا کر اور ایسا کر کہ ہماری بیویاں اور ہمارے فرزند نیک بخت ہوں اور ہم ان کے پیش روہوں“۔( یعنی نمونہ قائم کرنے والے ہوں)۔(آریہ دھرم روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ نمبر 23) پس یہ چیز ہے جس سے گھر بھی اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنتے ہیں اور افراد بھی جماعت کا فعال حصہ بن کر نسلاً بعد نسل جماعتی ترقی میں حصہ دار بنتے چلے جاتے ہیں۔پھر ہمیں اللہ تعالیٰ نے ایک دعا سکھائی کہ : رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (البقرة: 202) اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی حسنہ عطا کر اور آخرت میں بھی حسنہ عطا کر اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” مومن کے تعلقات دنیا کے ساتھ جس قدر وسیع ہوں وہ اس کے مراتب عالیہ کا موجب ہوتے ہیں کیونکہ اس کے نصب العین دین ہوتا ہے اور دنیا، اس کا مال و جاہ دین کا خادم ہوتا ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ دنیا مقصود بالذات نہ ہو بلکہ حصولِ دنیا میں اصل غرض دین ہو اور ایسے طور پر دنیا کو حاصل کیا جاوے کہ وہ دین کی خادم ہو۔جیسے انسان کسی جگہ سے دوسری جگہ جانے کے واسطے سفر کے لئے سواری یا اور زادِ راہ کو ساتھ لیتا ہے تو اس کی اصل غرض منزلِ مقصود پر پہنچنا ہوتا ہے نہ خود سواری اور راستہ کی ضروریات۔اسی طرح پر انسان دنیا کو حاصل کرے مگر دین کا خادم سمجھ کر “۔فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جو یہ دعا تعلیم فرمائی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً ( القر :2002)۔اس میں بھی دنیا کو مقدم کیا ہے، لیکن کس دنیا کو ؟ حَسَنَةُ الدُّنْیا کو جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جائے۔ایسی دنیا کو مقدم کیا ہے جو آخرت میں حسنات کا موجب ہو جائے۔اس دعا کی تعلیم سے صاف سمجھ میں آجاتا ہے کہ مومن کو دنیا کے حصول میں حَسَنَاتُ الْآخِرَة کا خیال رکھنا چاہئے۔اور ساتھ ہی حَسَنَةُ الدُّنْيَا کے لفظ میں ان تمام بہترین ذرائع حصولِ دنیا کا ذکر آگیا ہے جو ایک مومن مسلمان کو حصولِ دنیا کے لئے اختیار کرنے چاہئیں۔دنیا کو ہر ایسے طریق سے حاصل کرو جس کے اختیار کرنے سے بھلائی اور خوبی ہی ہو۔نہ وہ طریق جو کسی دوسرے بنی نوع انسان کی تکلیف رسائی کا موجب ہو نہ ہم جنسوں میں کسی عارو شرم کا باعث ہو)۔(الحکم جلد 4 نمبر 29 مورخہ 16 اگست 1900ء۔صفحہ 4-3 ) ( ملفوظات جلد اول صفحہ 364,365 جدید ایڈیشن ربوہ )