خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 462 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 462

خطبات مسرور جلد ہشتم 462 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا میں ہو کر خدا تلاش کرو تو خدا ملتا ہے۔خدا میں ہو کر خدا تلاش کرو۔خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کو تلاش کرنے کی کوشش کرو گے تو خدا ملے گا۔اور خدا میں ہو کر خدا تلاش کرنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کی صفات اپناؤ۔اب اللہ تعالیٰ رحمان اور رحیم ہے اور اس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو کر اس کے نام پر ظلم و بربریت پھیلانے والے کس طرح اللہ تعالیٰ کی راہ کو پا سکتے ہیں۔آج بھی ایک افسوسناک ہمیں اطلاع ملی۔جمعہ کے دوران مردان میں ہماری مسجد پر دہشت گردوں نے حملہ کیا لیکن ڈیوٹی پر موجود خدام کی بروقت کارروائی سے ان کو زیادہ کامیابی نہیں ہوئی۔زیادہ کیا ؟ ہوئی ہی نہیں۔اندر نہیں آسکے۔انہوں نے گرنیڈ وغیرہ پھینکے اور ایک خود کش حملہ آور زخمی ہو گیا۔زخمی حالت میں پھر اس نے اپنے آپ کو اڑا لیا جس کی وجہ سے مسجد کا گیٹ اور دیواریں وغیرہ گر گئیں۔وہاں خدام ڈیوٹی پر تھے چند ایک زخمی ہوئے اور ایک خادم شہید بھی ہوئے۔اِنَّا لِلّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ اللہ تعالیٰ اس شہید کے بھی درجات بلند کرے اور زخمیوں کو بھی شفاء دے۔باقی حملہ آور جو تھے وہ فرار ہو گئے۔تو بہر حال کہنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ کون سے لوگ ہیں جو اسلام کے نام پر ، خدا کے نام پر یہ کام کرنے والے ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنانے والے ہیں۔یہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے نام پر اللہ کی عبادت کرنے والوں پر حملہ کرنے والے ہیں یہ تو کسی طرح بھی خدا والے نہیں کہلا سکتے۔پھر دو دن پہلے ہم نے دیکھا کہ ایک شیعوں کا جلوس تھا اس پر حملہ کیا۔وہاں بلا وجہ معصوم جانیں ضائع ہو ئیں۔بہت سے زخمی بھی ہوئے۔تو یہ لوگ تو ایسے ہیں جیسا کہ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اتنا ٹیڑھا کر دیا ہے کہ اب بظاہر لگتا ہے ان لوگوں کے لئے کوئی واپسی کا راستہ نہیں رہا۔اور جو لوگ ان کو مدد کرنے والے ہیں، مددگار ہیں یا جن کے ہاتھ میں طاقت ہے اور پوری طرح ہاتھ نہیں ڈالتے وہ لوگ بھی اس کے ذمہ دار ہیں۔اللہ تعالیٰ جلد ان ظالموں سے ملک کو نجات دے بلکہ دنیا کو نجات دے کیونکہ اب تو دنیا میں بھی یہ لوگ پھیل گئے ہیں۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے کوشش کی حالت کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ مثال دی ہے۔فرمایا کہ: ”جو لوگ کوشش کرتے ہیں ہماری راہ میں انجام کار راہنمائی پر پہنچ جاتے ہیں۔جس طرح وہ دانہ تخم ریزی کا بدوں کو شش اور آبپاشی کے بے برکت رہتا بلکہ خود بھی فنا ہو جاتا ہے۔اسی طرح تم بھی اس اقرار کو ہر روز یاد نہ کرو گے اور دعائیں نہ مانگو گے کہ خدایا ہماری مدد کر تو فضل الہی وارد نہیں ہو گا۔اور بغیر امداد الہی کے تبدیلی ناممکن ہے۔“ (الحکم جلد 8 نمبر 38,39 مورخہ 10,17 نومبر 1904ء صفحہ 6 کالم نمبر 3)