خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 458

خطبات مسرور جلد ہشتم 458 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 نتیجہ ہے اور وہ نتیجہ خدائے تعالیٰ کا فعل ہے ایسا ہی دین کے متعلق بھی یہی قانون ہے جیسا کہ خدائے تعالیٰ ان دو مثالوں میں صاف فرماتا ہے۔الَّذِينَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت:70) فَلَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللَّهُ قُلُوبَهُمُ (الصف: 6)۔یعنی جو لوگ اس فعل کو بجالائے کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کی جستجو میں پوری پوری کوشش کی تو اس فعل کے لئے لازمی طور پر ہمارا یہ فعل ہو گا کہ ہم ان کو اپنی راہ دکھا دیں گے۔اور جن لوگوں نے کبھی اختیار کی اور سیدھی راہ پر چلنا نہ چاہا تو ہمارا فعل اس کی نسبت یہ ہو گا کہ ہم ان کے دلوں کو سچ کر دیں گے “ ( ٹیڑھا کر دیں گے)۔(اسلامی اصول کی فلاسفی روحانی خزائن جلد نمبر 10 صفحہ 389)۔پس یہ بندے کی بد قسمتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خدا سے ڈور کرتا ہے۔چند دن ہوئے مجھے ہمارے ایک غیر از جماعت جو پاکستان سے آئے تھے، کہنے لگے کہ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے کیا وجہ ہے ؟ کب ٹھیک ہو گا؟ کس طرح ہو گا؟ تو میں نے انہیں کہا کہ دوہی باتیں ہیں جو ہمیں سامنے رکھنی چاہئیں۔ایک تو یہ کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ میری طرف آؤ، کوشش کرو، جد وجہد کرو۔( اس آیت کا حوالہ دیا ہے کہ میری رضا حاصل کرنے کے تمام راستوں کو تلاش کرنے کی جان لڑا کر کوشش کرو، تو میں راستے دکھاتا ہوں)۔پھر ان سے پوچھا کہ آپ ہی بتائیں کیا یہ صورت آپ کو نظر آرہی ہے ؟۔تو کہنے لگے کہ نہیں، بلکہ الٹا حساب ہے۔تو میں نے کہا پھر جب الٹا حساب ہے تو اللہ تعالیٰ کا پھر دوسرا فعل ظاہر ہوتا ہے۔پس مین حیث القوم بھی ہمیں اپنی سوچوں کے دھارے اور سمتیں ٹھیک کرنی ہوں گی۔اگر ہم نیک نیتی سے ملک کی ترقی چاہتے ہیں تو پاکستانی قوم کو بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔تمام میڈیا آج کل پاکستان کا شور مچارہا ہے۔باہر بھی اور پاکستان میں بھی اور یہ لوگ بہت کچھ کہہ رہے ہیں جو مجھے یہاں کہنے کی ضرورت نہیں۔انہوں نے تو بعض الفاظ کہہ کے ، باتیں کہہ کے انتہا کر دی ہے۔لیکن ظلم و بربریت کے جو نمونے ہر طرف نظر آرہے ہیں اس کو روکنے کی کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کر رہا۔اللہ تعالیٰ ہی رحم کرے۔اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ سعید فطرتوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کس طرح سلوک کرتا ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: انسان کے دل پر کئی قسم کی حالتیں وارد ہوتی رہتی ہیں۔آخر خدا تعالیٰ سعید روحوں کی کمزوری کو دور کرتا ہے اور پاکیزگی اور نیکی کی قوت بطور موہبت عطا فرماتا ہے۔( یعنی خود پھر اپنی طرف سے عطا کرتا ہے)۔پھر اس کی نظر میں وہ سب باتیں مکروہ ہو جاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نظر میں مکروہ ہیں۔( یعنی اس انسان کی نظر میں۔جب اللہ تعالیٰ اس کو یہ عطا فرما دیتا ہے پاکیزگی اور نیکی۔اس کی اس کوشش کی وجہ سے جو کچھ تھوڑی سی وہ کر رہا ہو تا ہے اس میں برکت ڈال دیتا ہے ، اور دروازے کھول دیتا ہے )۔تو فرمایا: اور وہ سب راہیں پیاری ہو جاتی ہیں جو خدا تعالیٰ کو پیاری ہیں۔تب اس کو ایک ایسی طاقت ملتی ہے جس کے بعد ضعف نہیں۔اور ایک ایسا جوش عطا ہو تا ہے جس کے