خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 456
خطبات مسرور جلد ہشتم 456 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 03 ستمبر 2010 ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ پر ایمان بالغیب اور اس کی طاقتوں اور صفات پر کامل ایمان اس مسلسل کوشش کی طرف انسان کو مائل کرتا ہے۔اگر صرف عقل کے ترازو سے اللہ تعالیٰ کی پہچان کی کوشش ہو گی تو اللہ تعالیٰ نظر نہیں آسکتا۔وہ اپنی طرف آنے کے راستے نہیں دکھائے گا۔اللہ تعالیٰ کو پانے کے لئے اس کے راستوں کی تلاش کے لئے پہلی کوشش بندے نے کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس پہچان کے لئے بھی بندے کو اندھیرے میں نہیں رکھا کہ کس طرح راستے تلاش کرنے ہیں ؟ سب سے اول اس زمانہ کے لئے بلکہ آنحضرت صلی للی علم کی بعثت سے لے کے قیامت تک کے زمانے کے لئے آنحضرت صلی للی نام اور قرآن کریم کو ہمارے سامنے رکھا ہے۔اس میں سے راستے تلاش کرو۔اس سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ انبیاء کے ذریعہ انسان کو راستوں کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔اور پھر انبیاء کے ذریعے سے نشانات اور عجائبات دکھا کر اپنی ہستی کا ثبوت بھی پیش کرتا ہے تا کہ ان چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی طرف آنے کے راستوں کی پہچان ہو سکے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوا فِينَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا جو ہمارے راہ میں مجاہدہ کرے گا ہم اس کو اپنی راہیں دکھلا دیں گے یہ تو وعدہ ہے اور ادھر یہ دعا ہے کہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ۔سو انسان کو چاہئے کہ اس کو مد نظر رکھ کر نماز میں بالحاح دعا کرے اور تمنار کھے کہ وہ بھی ان لوگوں میں سے ہو جاوے جو ترقی اور بصیرت حاصل کر چکے ہیں۔ایسا نہ ہو کہ اس جہان سے بے بصیرت اور اندھا اٹھایا جاوے“۔اخلاص اور فا کا تعلق رپورٹ جلسہ سالانہ 1897 صفحہ 38,39 مطبوعہ انوار احمد یہ پریس قادیان) پس یہ دعا جو سورۃ فاتحہ میں ہر نماز کی ہر رکعت میں ہم پڑھتے ہیں اس پر غور کریں اور نہایت درد سے اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم کی ہدایت چاہیں تو اللہ تعالیٰ ہدایت دیتا ہے۔اپنی طرف آنے کے راستے دکھاتا ہے اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور فرستادے نشانات کے ساتھ آتے ہیں تاکہ انسانوں کو توجہ دلائیں کہ اللہ تعالیٰ کے راستوں کو تلاش کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ کا قرب پاسکو۔اور ظاہر ہے ایک عقلمند انسان جب کسی کام کو کسی کے توجہ دلانے پر کرتا ہے اور اس سے فائدہ بھی اٹھا لیتا ہے۔تو لا محالہ اس توجہ دلانے والے کا بھی شکر گزار ہو کر اس سے بھی تعلق پیدا کرتا ہے اور کرنا چاہئے۔یہی عقل کا تقاضا ہے کہ مزید فائدے اٹھائے۔پس اس نکتہ کو سمجھنا ضروری ہے۔جو سمجھتا ہے وہ کامیاب ہوتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا انبیاء اور اللہ تعالیٰ کے فرستادے اللہ تعالیٰ کے راستوں کی طرف نشاندہی کرتے ہیں تو وہ اس بات کے سب سے زیادہ مستحق ہیں کہ ایک عقل مند انسان ان کے ساتھ جڑ کر اخلاص اور وفا کا تعلق پیدا کرے۔اس زمانے کے لئے جبکہ آنحضرت صلی الم نے مسیح و مہدی کے آنے