خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 453
خطبات مسرور جلد ہشتم 453 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 جو سب مثبت اور منفی باتیں ہیں، اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی آمد اور لیلتہ القدر ہونے کا ثبوت ہیں۔یہاں یہ بات بھی یاد رکھنے والی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ فرشتوں کے اترنے کا سلسلہ مطلع الفجر تک رہتا ہے۔آنحضرت صلی علیکم کا زمانہ لیلتہ القدر کا وہ خاص زمانہ تھا جس میں فرشتے سلامتی لے کر اترتے رہے، یہاں تک کہ آپ کا اس دنیا سے واپسی کا وقت آگیا۔آپ نے کامیابیاں دیکھیں، فتوحات دیکھیں۔اسلام کا غلبہ ہو گیا۔یہ مطلع الفجر تھا، وہ زمانہ تو لوٹ کر نہیں آسکتا۔جب دین کامل ہوا، اللہ تعالیٰ کی نعمتیں پوری ہوئیں، کامل اور مکمل شریعت قرآنِ کریم کی صورت میں نازل ہوئی تو وہ ایک دور تھا جو گزر گیا۔لیکن جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ نائب رسول کے زمانے میں ظلی طور پر یہ ظہور میں رہتا ہے۔تو آنحضرت صلی ال نیم کے بعد خلافتِ راشدہ کے زمانے میں یہ روشن صبح جو تھی وہ تیس سال تک رہی، اور پھر آہستہ آہستہ روحانی اندھیرے پھیلنے شروع ہوئے اور مکمل اندھیر ازمانہ بھی آگیا جو آپ کی پیشگوئی کے عین مطابق تھا۔پھر آپ کے ظل کی بعثت کے ساتھ ظلی طور پر لیلتہ القدر کا ایک نیا زمانہ شروع ہو گیا۔اب ہم جس زمانے سے گزر رہے ہیں یہ مطلع الفجر کے بعد کا زمانہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد ایک لحاظ سے وہ دور بھی ختم ہو ا۔یہ دن جو طلوع ہوا ہے تو اس سے فیض پانے کے لئے اس زمانے میں اسلام اور احمدیت کے لئے جو فتوحات مقدر ہیں ان کو دنیاوی جاہ و حشمت سے بچانے کے لئے اور روحانیت کے معیار اونچے کرتے رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ ہمیں ہر سال بار بار رمضان میں لیلتہ القدر کی یاد دہانی کرواتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آنحضرت میایی کم کا زمانہ لیلتہ القدر کا زمانہ تھا اور وہ تا قیامت قائم رہے گا۔یعنی ایک لحاظ سے تو آپ کے وصال اور قرآنِ کریم کے اترنے کے ساتھ یہ ختم ہو گیا اور طلوع فجر ہوا لیکن ایک لحاظ سے جاری رہے گا کہ قرآن اور رمضان کے حق ادا کرو۔تو امت کو بھی اس میں پیغام ہے کہ اُمت بھی رمضان میں ایک رات جو لیلۃ القدر کی رات کہلاتی ہے اس سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے بار بار کے روحانی ماحول کو پیدا کر کے مؤمنوں پر احسان کیا ہے۔پس اگر اس احسان کا احساس کرتے ہوئے ہم اپنے فرائض ادا کرتے رہیں گے تو آنحضرت صلی یکم کے جاری شدہ فیض سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے انعامات سے ہمیشہ نوازتا رہے۔ہمارے دشمن جو اپنے زعم میں ہم پر دن رات تنگیاں وارد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہمیں اندھیروں میں دیکھنا چاہتے ہیں، ہماری تباہی چاہتے ہیں اور اپنے زعم میں ہمیں برباد کرنا چاہتے ہیں، کیونکہ الہی جماعتیں تو کبھی ضائع نہیں ہو تیں نہ برباد ہو سکتی ہیں۔اللہ کرے کہ یہ تنگیاں جو آج کل ہمارے اوپر خاص طور پر پاکستان میں پیدا کی جارہی ہیں، یہ لیلتہ القدر کے سامان لے کر آئیں اور پھر ہم مطلع الفجر کاوہ نظارہ دیکھیں جو ہمیشہ کی سلامتی اور فتوحات کی صورت میں ظاہر ہو، اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے۔الله الفضل انٹر نیشنل جلد 17 شمارہ 38 مورخہ 17 ستمبر تا23 ستمبر 2010 صفحہ 5 تا8)