خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 446 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 446

خطبات مسرور جلد ہشتم 446 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 تھی) اگر تم میں سے کوئی کمزور ہو جائے یا عاجز رہ جائے۔تو وہ آخری سات راتوں میں ہر گز مغلوب نہ ہو جائے۔( صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل لیلۃ القدر۔۔۔حدیث نمبر 2654) پس دیکھیں، یہ کس قدر تاکید ہے کہ اگر کسی وجہ سے رمضان سے فیض نہیں بھی اٹھا سکے اور یہ خواہش رکھتے ہو کہ حقیقی مومن بنو تو اس عشرہ یا سات دن میں ہر عذر کو دور پھینکو اور اپنی راتوں کو خدا تعالیٰ کی عبادت میں اس طرح گزار و جو عبادت کا حق ہے۔جس کا نمونہ آنحضرت صلی علیہ ہم نے ہمارے سامنے پیش فرمایا۔یہی کوشش ہے جو تمہاری روحانی ترقیات کا باعث بنے گی۔اور اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے والی بنے گی۔پھر ایک روایت میں آتا ہے۔سالم بن عبد اللہ بن عمر کہتے ہیں کہ ان کے والد جو صحابی تھے ( رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بیان کرتے تھے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علم کو لیلۃ القدر کے متعلق فرماتے ہوئے سنا کہ تم میں سے بعض کو وہ (آخری عشرہ کی پہلی سات راتوں میں دکھائی گئی ہے اور تم میں سے بعض کو آخری سات راتوں میں دکھائی گئی ہے۔( صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل لیلۃ القدر۔۔۔حدیث نمبر 2653) پس اس حدیث سے پہلی حدیث کی وضاحت ہو گئی کہ صرف آخری سات راتیں نہیں بلکہ عشرہ ہے کیونکہ کوئی معین دن نہیں ہے۔ہو سکتا ہے بعض صحابہ نے پہلی سات راتوں میں دیکھی ہو اور بعض صحابہ نے آخری سات دنوں میں۔لیکن یہ بھی روایت میں ملتا ہے کہ طاق راتوں میں تلاش کرو۔) صحیح مسلم کتاب الصیام باب فضل لیلتہ القدر۔۔۔حدیث نمبر 2652) بہر حال جو بھی دیکھتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ کا ایک خاص فضل ہے۔لیلتہ القدر سے گزرنے کے بعد جیسا کہ میں نے کہا اس کی قدر کرنا بھی ضروری ہے اور وہ اسی طرح ہو گی کہ پھر انسان میں ایک ایسی تبدیلی آئے جو روحانی ترقی کی طرف ہر آن لے جاتی رہے اور بڑھاتی رہے۔یہ باتیں جو میں نے بیان کی ہیں، یہ لیلتہ القدر کا ایک پہلو ہے جس میں حدیثوں کی رو سے رمضان کے آخری عشرے کے طاق دنوں میں خدا تعالیٰ کے خاص فضل کے اترنے کی ایک رات کا ذکر ہے۔جس کے بارہ میں قرآنِ کریم فرماتا ہے ، جیسا کہ میں نے سورۃ قدر تلاوت کی کہ ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔اور ہزار مہینے تقریباً 83 سال سے اوپر بنتے ہیں۔یعنی اگر یہ رات میسر آجائے تو انسان کی زندگی بھر کی دعائیں جو خدا تعالیٰ کی نظر میں ایک مومن کی بہتری کے لئے ہیں وہ قبول ہو جاتی ہیں۔انسان بہت ساری دعائیں کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی نظروں میں بہتر نہیں ہوتیں۔اور جو اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتر ہوں تو مومن جب خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا ہے تو اللہ تعالیٰ پھر مومن کا فائدہ دیکھتے ہوئے اس کے لئے وہ دعائیں قبول فرماتا ہے۔یا مومن کو وہ معیار حاصل ہو جاتا ہے جو اس کے روحانی معیار کو بلند کرتا ہے۔ملائکہ کا نزول ایک مومن کے تعلق باللہ میں ایک انقلاب پیدا کرنے کا باعث بنتا ہے۔اور ایک رات کی عبادت ساری زندگی کی عبادتوں کے برابر ہو جاتی ہے کیونکہ وہ اپنے مقصد پیدائش کو پالیتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا جب ایک دفعہ پالیا تو پھر اسے پاتے چلے جانے کی جستجو اور کوشش میں ایک مومن لگارہتا ہے۔پس یہ رات ہے جس کی ایک مومن کی زندگی میں بڑی اہمیت ہے۔