خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 445 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 445

445 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم (یعنی نیند بہت کم ہوتی۔سوتے تو تھے لیکن بہت کم نیند ہوتی )۔اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے۔پس اس حدیث میں یہ واضح ہے کہ آخری عشرہ میں آنحضرت صلی اہم نہ صرف خود اپنی عبادت میں پہلے سے کئی گنا بڑھ جاتے تھے۔جبکہ آنحضرت صلی للی نیم کی عام دنوں کی عبادتوں کی لمبائی اور خوبصورتی کا تو ہم اندازہ بھی نہیں کر سکتے۔(مسند احمد بن حنبل مسند عائشہ جلد 8 صفحہ 106 حدیث نمبر 24950 مطبوعہ بیروت ایڈیشن 1998) یہ بھی حضرت عائشہ نے ایک دفعہ جواب دیا تھا، تو اس عشرہ میں کیا حالت ہوتی ہو گی۔یہ تصور سے بھی باہر ہے۔اور پھر جو انعامات کی اور فضلوں کی بارش خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو رہی ہوتی ہے یا اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش اس عشرہ میں ہوتی ہے جس کا سب سے زیادہ فہم و ادراک آنحضرت صلی اللہ ہم کو ہی تھا۔تو آپ یہ کس طرح برداشت کر سکتے تھے کہ میرے اہل خانہ اس سے محروم رہیں۔اس لئے آپ ان کو بھی اٹھاتے اور پھر جو روحانی حالت اور کیفیت ہوتی ہو گی اس کا انداز بھی یقیناً عجیب ہوتا ہو گا۔پس یہ نمونہ آپ نے ہمارے لئے قائم فرمایا۔اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ یہ حالت اپنے اور اپنے گھروں میں پیدا کرنے کی کوشش کرنے والے بنیں۔یہی کیفیت ہے جسے ہم جب اپنے پر طاری کریں گے تو ہماری مغفرت کے سامان بھی ہو رہے ہوں گے اور حقیقی مومن بھی کہلا سکیں گے۔چند اور روایات میں اس حوالے سے پیش کرتا ہوں۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی علیہ کم سے روایت کی۔آپ نے فرمایا کہ : جو بجذبہ ایمان رضائے الہی کی غرض سے ماہِ رمضان میں روزے رکھے ، تو اس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہوں ان کی مغفرت کی جائے گی۔اور جو لیلۃ القدر میں جوش ایمان میں رضائے الہی کی غرض سے رات کو اٹھے تو اس کے جو گناہ پہلے ہو چکے ہیں ان کی مغفرت کی جائے گی۔( صحیح بخاری کتاب فضل ليلة القدر باب فضل لیلۃ القدر حدیث نمبر 2014) پس رمضان کے روزے بھی ایمان میں مضبوطی اور اللہ تعالی کی رضا سے مشروط ہیں ورنہ بھوکا رہنے سے اللہ تعالیٰ کو کوئی غرض نہیں ہے اور لیلتہ القدر بھی خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول سے مشروط ہے۔خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہے۔صرف دنیاوی اغراض سے کہ لیلۃ القدر مجھے مل جائے تو میں یہ دعا کروں گا کہ میرے دنیاوی مقاصد پورے ہو جائیں۔تو یہ غرض نہیں۔نیکیوں کے حصول کی کوشش ہونی چاہئے۔بلکہ سب سے مقدم دعاؤں میں اللہ تعالیٰ کی رضا ہو۔اس کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے پھر ایک جگہ آنحضرت صلی ا ہم نے اس طرح توجہ دلائی ہے۔عقبہ جو تحریث کے بیٹے ہیں سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا۔وہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ ہم نے فرمایا: تم اسے آخری عشرہ میں تلاش کرو ( آپ کی مراد لیلتہ القدر سے