خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 444 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 444

خطبات مسرور جلد ہشتم 444 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 ہمارے عملوں میں ، ہماری کوششوں میں ہے۔اللہ تعالیٰ تو ہر سال رمضان کا مہینہ اور اس مہینے میں یہ دس دن رکھ کر جن میں ایک رات لیلۃ القدر ہے جو بندے کو خدا تعالیٰ کا قرب دلانے کی انتہا ہے ، بھیجتا ہے تو پھر بندے کو اس ایک رات کی تیاری کے لئے کتنی کوشش کرنی چاہئیے ؟ جس کو یہ ایک رات میسر آجائے اس کو خدا تعالیٰ کی نظر میں جو مقام ملتا ہے وہ تمام زندگی کی عبادتوں کے برابر ہے۔یعنی یہ ایک رات اس کی کایا پلٹ دیتی ہے۔اس کی شخصیت وہ نہیں رہتی جو پہلے تھی اور یہی حالت ہونی چاہئے۔ورنہ تو اس ایک رات کا حق ادا نہیں ہو گا۔ایک مومن کی تو شان ہی یہ ہے کہ اس کی روحانی حالت بہتری کی طرف ہمیشہ جاری رہے۔اگر کسی کو یہ خیال آجائے کہ مجھے لیلتہ القدر میسر آگئی جس کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے بہتر ہے اس لئے اب مجھے عبادت کی ضرورت نہیں تو وہ جھوٹا ہے۔اللہ تعالیٰ کی محبت کی چاٹ ایک مومن کو پہلے سے بڑھ کر خدا تعالیٰ کا عابد اور اس کے حکموں پر عمل کرنے والا بناتی ہے۔پس جب یہ صورت پیدا ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ کا ایک جاری فیض شروع ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ پھر کہتا ہے کہ میں تمہاری دعائیں سنا کروں گا۔تم نے میرا قرب پانے کی کوشش کی ہے ، قدم اٹھایا ہے اور جد وجہد کی ہے، تم نے اپنے عہد کا پاس کیا ہے ، اس کی نگہداشت کی ہے ، اب اگر تم یہ عمل جاری رکھو تو میں بھی تمہیں نو از تارہوں گا۔یعنی بندہ جب رمضان میں روحانی معیار بلند کرنے کی کوشش کرے گا تو خدا تعالیٰ لیلتہ القدر کے نظارے دکھا کر اپنے قریب کرتا چلا جائے گا۔ایک مومن کی اپنی ذات کے لئے لیلتہ القدر کا صحیح اور اک پیدا کرنے کے لئے ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : لیلۃ القدر انسان کے لئے اس کا وقت اصفی ہے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 536 مطبوعہ ربوہ) یعنی جب وہ بالکل پاک صاف ہو جائے اور خدا تعالیٰ کے احکامات کا پابند ہو جائے۔پس یہ حالت پیدا کرنے کی کوشش ہی لیلتہ القدر کا فیض پانے والا بناتی ہے۔اور رمضان کا مہینہ یہی روحانی انقلاب پیدا کرنے کے لئے آتا ہے۔اگر ہم اس کی قدر کریں گے تو لیلتہ القدر پالیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن جائیں گے۔جیسا کہ میں نے ایک روایت بیان کی ہے کہ لیلتہ القدر رمضان کے آخری عشرے میں تلاش کرو۔اس بارہ میں بعض اور احادیث میں نے لی ہیں۔میں وہ بیان کرتا ہوں جس سے اس آخری عشرہ کی اہمیت اور آنحضرت صلی اللہ ظلم کے خاص اہتمام کے بارہ میں پتہ چلتا ہے کہ کس طرح آپ اہتمام فرمایا کرتے تھے۔رمضان کی عبادت میں اہل خانہ کی شمولیت حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب رمضان کا آخری عشرہ شروع ہو تا تو نبی صلی علی کی اپنی کمر کس لیتے اور رات بھر جاگتے رہتے۔(بخاری کتاب فضل لیلتہ القد رباب العمل في العشر الاواخر من رمضان حدیث نمبر 2024)