خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 443
خطبات مسرور جلد ہشتم 443 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اگست 2010 دیکھو خدا تعالیٰ تو دوسری جگہ پر کہتا ہے کہ جنوں اور انسانوں کی پیدائش کا مقصد اس کی عبادت کرنا ہے۔یہ بات کہ صرف ایک رات میں عبادت کر لو یا ایک رات کی تلاش میں دس دن عبادت کر لو تو تمہاری ساری زندگی کی عبادتیں پوری ہو جائیں گی، ایک انسان کو اللہ تعالیٰ کے اس حکم سے دور لے جائے گی کہ تمہارا مقصد پیدائش عبادت کرنا ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور جھکے رہنا ہے۔ایک روایت میں آتا ہے۔زر بن حبیش کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ آپ کے بھائی ابنِ مسعود کہتے ہیں کہ جو سارا سال عبادت کرے ، وہ لیلتہ القدر کو پائے گا۔انہوں نے کہا اللہ ان پر رحم کرے۔ان کا مقصد یہ ہے کہ لوگ صرف اسی ایک رات پر تکیہ نہ کر لیں ورنہ وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ رات رمضان میں آتی ہے اور یہ کہ آخری عشرہ میں آتی ہے۔(مسلم کتاب الصیام باب فضل لیلتہ القدر۔۔۔حدیث نمبر 2666) صحابہ تو اس بات کی گہرائی سے واقف تھے کہ صرف آخری عشرہ کی عبادتیں لیلتہ القدر دیکھنے کا باعث نہیں بن جاتیں بلکہ انسان کو اپنے مقصد پیدائش کو سامنے رکھتے ہوئے جب اللہ تعالیٰ کے قرب کے حصول کی طرف توجہ پیدا ہوتی ہے تو خدا تعالیٰ اگر چاہے تو اپنے بندوں کی تسلی کے لئے ان کو اپنے خاص فضل سے نوازتے ہوئے ان سے اپنے قرب کا اظہار کرنے کے لئے وہ کیفیت پیدا کر دیتا ہے ، وہ حالت پیدا کر دیتا ہے جس میں ایک عابد بندے کو یہ خاص رات میسر آجاتی ہے۔اور ایک عجیب روحانی کیفیت میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہو جاتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ نے ایک مومن سے اس کے ایمانی عہد اور بندگی کے عہد کو پورا کرنے پر جس میں ہر لمحہ ایک مومن کے عمل میں ترقی نظر آتی ہے اور آنی چاہئے۔اور رمضان کے روزے اور قرآن کریم کی تلاوت اور اسے سمجھنا، اور عبادتوں کے معیار اس لئے بلند کرنے کی کوشش کرنا کہ رمضان میرے معیارِ عبودیت اور بندگی کو مزید بڑھائے گا ایک خاص رات رکھی ہے۔ایک کوشش اور شوق کے ساتھ بلند معیار حاصل کرنے کے لئے مومن جب جت جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے پر بے انتہا مہربان ہے ، جو اپنے وعدوں کا پورا کرنے والا ہے ، جب وہ دیکھتا ہے کہ بندہ اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ اور اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرتے ہوئے میرے ان الفاظ کو سامنے رکھ کر کہ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ یعنی دعا کرنے والے کی دعا سنتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔مجھ سے دعامانگتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ، میں نہ صرف اس کی دعا سنتا ہوں بلکہ رمضان کے آخری عشرہ میں جو میں نے اپنے بندوں کے لئے ایک لیلتہ القدر کے پانے کا کہا ہے وہ بھی عطا کرتا ہوں۔آسمان سے اتر کر بندوں کے قریب تر آجاتا ہوں اور کہتا ہوں کہ آج کی رات تم مانگو میں تمہیں عطا کروں گا۔پس جب بندہ اپنا عہد پورا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی قبولیت دعا بلکہ روحانی مقام میں اضافے کے وعدے کو پورا فرماتا ہے۔ہمارا خدا یقینا سچے وعدوں والا خدا ہے۔اگر کبھی کہیں کمی ہے تو