خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 28
خطبات مسرور جلد ہشتم 28 خطبہ جمعہ فرمودہ مور محمد 08 جنوری 2010 اللہ تعالیٰ سب قربانیاں کرنے والوں کی ان قربانیوں کو قبول فرمائے۔ان کے اموال و نفوس میں بے انتہا برکت ڈالے اور ہمیشہ ان کے ایمان و اخلاص میں اضافہ کرتا چلا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: یہ فریضہ تمام قوم میں مشترک ہے اور سب پر لازم ہے کہ اس پر خطر اور پر فتنہ زمانہ میں کہ جو ایمان کے ایک نازک رشتہ کو جو خدا اور اس کے بندے میں ہونا چاہئے بڑے زور و شور کے ساتھ جھٹکے دے کر ہلا رہا ہے اپنے اپنے حسن خاتمہ کی فکر کریں اپنے اپنے اچھے خاتمہ کی فکر کریں اور وہ اعمال صالحہ جن پر نجات کا انحصار ہے اپنے پیارے مالوں کے فدا کرنے اور پیارے وقتوں کو خدمت میں لگانے سے حاصل کریں اور خدا تعالیٰ کے اس غیر متبدل اور مستحکم قانون سے ڈریں جو وہ اپنے کلام عزیز میں فرماتا ہے۔لَنْ تَنَالُوا الْبِرِّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ (آل عمران : 93) یعنی تم حقیقی نیکی کو جو نجات تک پہنچاتی ہے ہر گز پا نہیں سکتے بجز اس کے کہ تم خدا تعالیٰ کی راہ میں وہ مال اور وہ چیزیں خرچ کرو جو تمہاری پیاری ہیں“۔(فتح اسلام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 38-37) اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں نیک اعمال کی توفیق دیتا رہے۔قربانیوں کے لئے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ہم ہمیشہ تیار رہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جس مشن کو لے کر آئے تھے اس کو ہمیشہ آگے بڑھانے والے ہوں۔آج ایک افسوسناک خبر بھی ہے۔ہمارے لاہور کے ایک احمدی مکرم پروفیسر (ریٹائرڈ) محمد یوسف صاحب ابن مکرم امام دین صاحب رچنا ٹاؤن 5 جنوری کی صبح اپنی رہائش سے ملحقہ بیٹے کے جنرل سٹور پر بیٹھے ہوئے تھے کہ سوا آٹھ بجے کے قریب موٹر سائیکل پر سوار دو نقاب پوش آئے اور انہوں نے فائرنگ شروع کر دی۔فائرنگ کی آواز سن کے ان کا بیٹا باہر نکلا لیکن دیکھا تو ان کو زخمی حالت میں پایا اور ہسپتال لے جایا گیا لیکن راستے میں ہی وفات پا گئے۔إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔شہید مرحوم کی عمر 65 سال تھی۔اس علاقہ میں بڑے عرصے سے مخالفت جاری تھی اور مولوی مختلف بینر لگا ނ لگا کے اور اشتہار لگا کے احمدیوں کے خلاف اکسا رہے تھے۔بحیثیت صدر آپ جماعت میں 20 سال۔کام کر رہے تھے۔تین سال سے زعیم اعلیٰ انصار اللہ تھے۔آپ کو دو دفعہ اسیر راہ مولی رہنے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔بڑی سلجھی ہوئی شخصیت تھے۔ایم اے پنجابی اور ایم ایڈ کیا ہوا تھا اور گورنمنٹ ملازم کے طور پر ٹیچنگ کرتے رہے۔گورنمنٹ ہائی سکول شاہدرہ میں سینئر سائنس ٹیچر تھے۔سینئر ہیڈ ماسٹر بھی رہے۔گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول مرید کے میں پرنسپل رہے۔ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا ایک سکول