خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 26 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 26

خطبات مسرور جلد ہشتم 26 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 کافی قابل ستائش ہے۔تو اس لحاظ سے ان چار پانچ چھ آدمیوں کو نکال دیا جائے جنہوں نے امریکہ میں غیر معمولی قربانی دی ہے تو برطانیہ دوسرے نمبر پر ہی ہے۔ان پانچ چھ آدمیوں کی قربانیوں کا بھی لیکن مجموعی طور پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ میں جو نظام ہے اس نے اس طرح توجہ نہیں فائدہ ہے دی اور محنت نہیں کی جس طرح UK میں کی گئی ہے۔اس لئے میرا خیال ہے انشاء اللہ تعالیٰ اگلے سال اس لحاظ سے بھی برطانیہ آگے نکل جائے گا۔اور دوسری پوزیشن پہ آ جائے گا۔چوتھے نمبر پر جرمنی ہے۔انہوں نے پچھلے سال اپنی چوتھی پوزیشن کھو دی تھی اس سال ایک لاکھ 9 ہزار یورو کا انہوں نے اضافہ کیا ہے۔کینیڈا پانچویں نمبر پر ہے۔دفتر اطفال میں بچوں کو شامل کرنے میں کینیڈا بہت محنت سے کام کر رہا ہے۔پھر انڈیا ہے، انڈیا بھی چھٹے نمبر پر ہے انہوں نے بھی اپنی مقامی کرنسی میں 29 لاکھ روپے کا اضافہ کیا ہے۔یہ بھی جیسا کہ میں نے کہا قربانیوں میں بڑھ رہے ہیں۔کہیں نام نہیں ہوتا تھا اب آہستہ آہستہ اوپر آ رہے ہیں۔پھر ساتویں نمبر پر انڈونیشیا ہے، آٹھویں نمبر پر آسٹریلیا ہے، دسویں سے آٹھویں پوزیشن پر آگئے ہیں۔پھر نویں پر بیلجیم ہے، دسویں پر فرانس اور سوئٹزر لینڈ ہیں۔کرنسی کے لحاظ سے لوکل کرنسی میں اگر دیکھا جائے تو گزشتہ سال کے مقابل پر پانچ ایسی جماعتیں ہیں جنہوں نے زیادہ وصولی کی ہے۔آسٹریلیا نے 48 فیصد اضافہ کیا ہے اور انڈیا 47۔05 فیصد اضافہ کر کے نمبر 2 پر ہے۔جرمنی نے 26۔6 فیصد اضافہ کیا ہے۔برطانیہ نے 20۔18 فیصد اضافہ کیا ہے۔بیلجیئم نے 12۔05 فیصد اضافہ کیا۔فی کس ادائیگی کے لحاظ سے امریکہ پہلے نمبر پر ہے۔جیسا کہ میں نے کہا وہاں چند ایک امیر لوگ ہیں جو زائد رقم دے کر یہ کمی پوری کر دیتے ہیں۔فرانس دوسرے نمبر پر 43 پاؤنڈ اور برطانیہ۔تیسرے نمبر پر 38 پاؤنڈ یا 39 سمجھ لیں، سوئٹزر لینڈ چوتھے نمبر پر اور کینیڈا پانچویں نمبر پر ہے۔افریقہ میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے پہلی پانچ جماعتیں یہ ہیں۔نمبر ایک پر گھانا ہے، نمبر 2 پہ نائیجیریا ہے نمبر 3 پہ ماریشس ہے، نمبر 4 پر بورکینا فاسو ہے۔بورکینا فاسو اس لحاظ سے قابل تعریف ہے کہ انہوں نے اپنے شاملین کی تعداد میں 43 فیصد سے زائد کا اضافہ کیا ہے اور یہی میں نے کہا تھا کہ اصل چیز یہ ہے کہ نئے آنے والوں میں بھی اور بچوں میں بھی قربانیوں کی روح پیدا کی جائے۔جس کے لئے بورکینا فاسو میں خاص کوشش کی گئی ہے۔پانچویں نمبر پر بین ہے۔اس کے علاوہ اور بہت سارے ملک ہیں جو کافی کوشش کر رہے ہیں۔