خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 410
خطبات مسرور جلد ہشتم 410 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 اس سال سکیورٹی کے حوالے سے بھی بعض فکریں تھیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے محض اور محض اپنے فضل سے دُور فرمایا اور صرف خیالی فکریں نہیں تھیں یا پاکستان کے واقعہ کی وجہ سے ڈر اور خوف نہیں تھا بلکہ حقیقی فکر تھی۔ایک واقعہ ایسا ہوا بھی کہ شواہد بتاتے ہیں کہ جو بھی تھے نیت بد تھی۔لیکن سکیورٹی کے کارکنان کے چوکس رہنے اور بر وقت انتظام نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر شر سے محفوظ رکھا۔اس لحاظ سے تمام سکیورٹی کے انتظامات اور یہ شعبہ جو اس سال تقسیم کار کے لحاظ سے بھی مزید وسیع کیا گیا تھا یہ سب لوگ جو ہیں شکریہ کے مستحق ہیں۔بعض کارکنان نے تو شاید مشکل سے دو تین گھنٹے ہی آرام کیا ہو گا اور باقی وقت اپنی ڈیوٹیوں پر رہے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ہے حفاظت اور خدمتِ خلق کے شعبے کی عمومی رنگ میں بہترین کارکردگی رہی ہے۔لیکن ایک دوایسے واقعات ہوئے ہیں جن میں حفاظت اور خدمتِ خلق کے کارکنان سے غلط فہمی کی وجہ سے بعض لوگوں کو تکلیف بھی پہنچی۔جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے جس کے لئے ایک دو فیملیوں کو جن کو تکلیف پہنچی ہے ان سے معذرت ہے۔لیکن جس پریشر کے تحت، جس دباؤ کے تحت یہ کارکنان کام کر رہے تھے اور بعض کو جیسا کہ میں نے کہا آرام کا وقت ہی نہیں ملا تھا۔ان حالات میں ایسے معمولی واقعات ہو جاتے ہیں اس لئے میری درخواست ہے کہ جن سے یہ زیادتی ہوئی ہے وہ ان کارکنان کو معاف کر دیں اور دل میں کوئی رنجش نہ لائیں۔بہر حال عمومی طور پر ڈیوٹی دینے والے غیر معمولی چوکس رہے ہیں اور بڑی گہری نظر سے ہر طرف نظر رکھ کر کام کیا ہے اور میری توقعات سے بڑھ کر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔جو خدام یہاں UK کے جلسہ پر ڈیوٹیاں دیتے ہیں، ان میں مستقل ڈیوٹیاں دینے والے بھی ہیں۔یہ جلسہ کے صرف چند نہیں بلکہ گزشتہ چھبیس سال سے ڈیوٹیاں دیتے چلے جارہے ہیں۔اس حوالے سے بھی میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔خاص طور پر مسجد فضل میں مستقل ایک جذبے سے چوبیس گھنٹے ڈیوٹی دینے والے ہیں اپنے کام کا حرج کر کے وقت دے رہے ہیں خاص طور پر مسجد فضل کے حلقے کے لوگ۔اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزا دے۔اس دفعہ حفاظت کے حوالے سے بھی ذمہ داری کے عجیب عجیب نظارے دیکھنے میں آئے ہیں۔ایک لجنہ کی عہدیدار نے مجھے لکھا کہ وہ اپنی ساتھیوں کے ساتھ مارکیٹ کی طرف گئیں کیونکہ بیچ میں سے گئیں تھیں باہر سے نہیں گزر رہیں تھیں اس لئے چیکنگ کا خیال نہیں تھا انہوں نے ویسے بھی بیج لگایا ہوا تھا، لیکن وہاں سے نکلتے ہوئے ایک خادم نے کہا کہ آپ اپنے بیگ چیک کروائیں۔لجنہ کی عہدیدار ان کہتی ہیں ہم نے انہیں بہت کہا کہ ہمارے بیچ لگا ہوا ہے کہ ہم ڈیوٹی پر ہیں، اندر سے آرہی ہیں اور اندر دوبارہ واپس جارہی ہیں، باہر نہیں نکلیں۔لیکن اس نے کہا کہ بیگ وغیرہ چیک کئے بغیر میں تو آپ کو نہیں جانے دوں گا۔کہتی ہیں ہم نے پوچھا آپ کو یہ چیکنگ کے لئے کس نے کہا ہے ؟ مقصد یہ تھا کہ کوئی علیحدہ سے خاص ہدایت آئی ہے۔اس نے سادہ سا جواب دیا، اس نے میرا حوالہ دیا