خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 411
411 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم کہ خطبہ میں حضور نے کہا کہ سکیورٹی والے بھی اگر باہر نکلتے ہیں تو ان کو بھی چیک کرنا ہے۔اس لئے میرے لئے تو یہی ہدایت کافی ہے۔اس لئے میں تو آپ کو چیک کئے بغیر نہیں جانے دوں گا۔چاہے افسر میر ا کہتا ہے یا نہیں کہتا۔تو یہ ڈیوٹی والوں کا جذبہ تھا۔اس سے مجھے وہ واقعہ بھی یاد آگیا۔ایک دفعہ قادیان میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے وقت کی بات ہے احرار نے جب شرارت کرنے کا ارادہ کیا اور کافی زیادہ خطرہ بھی تھا تو بہشتی مقبرہ کے لئے حفاظت کے لئے آپ نے خاص طور پر ڈیوٹیاں لگائیں۔ہر ایک کو خاص کو ڈ بتایا کہ اس کے بغیر تم نے کسی کو اندر نہیں داخل ہونے دینا۔چیک کرنے کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایک دفعہ رات کو خود گئے تو ڈیوٹی والوں نے روک لیا، انہوں نے اپنا نام لیا۔اس نے کہا حضور ! میں نے آپ کو پہچان تو لیا ہے لیکن مجھے آپ کا حکم ہے کہ کوڈ کے بغیر جانے نہیں دینا۔اس لئے آپ نہیں جاسکتے۔تو حضرت خلیفہ ثانی نے اس کی بڑی تعریف کی۔یہ بڑالمسباواقعہ ہے۔بہر حال اگر خلیفہ وقت کی ہدایت پر خلیفہ وقت کو خو د روکا جا سکتا ہے تو عہدیداران کارو کنا کوئی ایسی بات نہیں۔بعض نئے انتظامات ہوں تو اندازے صحیح نہیں ہوتے اور اندازے میں کمیاں بھی رہ جاتی ہیں۔اس دفعہ بھی جلسہ گاہ میں داخلے کے گیٹ سکینر کی وجہ سے محدود تھے اس لئے خاص طور پر عورتوں کو لمبے عرصہ کے لئے انتظار کرنا پڑا جس کا ذکر میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی کیا تھا۔بعض ڈیوٹی والی خواتین نے مجھے لکھا کہ رش اور لمبے انتظار کی وجہ سے عورتوں اور چھوٹے بچوں کو دواڑھائی گھنٹے تک اور سایہ دار جگہ کی کمی ہونے کی وجہ سے دھوپ میں کھڑا ہونا پڑا۔لیکن عور تیں اپنے بچوں کے ساتھ بڑے صبر اور تحمل سے اتنالمبا عرصہ اپنی باری کا انتظار کرتی رہیں۔اور کیو (que) میں (لائن میں ) لگی رہیں۔ذرا بھی بے صبری اور ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔بچے بھی بڑی تکلیف میں تھے لیکن بڑے حوصلے سے انہیں بہلاتی رہیں۔ایک کار کنہ لکھتی ہیں کہ ان ماؤں اور بچوں کی حالت دیکھ کر مجھے رونا آرہا تھا۔اس لئے بھی کہ یہ بچوں سمیت تکلیف میں ہیں اور اس لئے بھی کہ یہ وہ احمدی مائیں ہیں اور یہ بچے ہیں جو جلسہ سننے کے لئے آئے ہیں۔اور صرف اس لئے اتنے صبر اور حوصلے کا مظاہرہ یہ عورتیں کر رہی ہیں کہ ان کا یہاں آنا دینی غرض سے ہے۔بہر حال بعض کارکنات ان کی یہ حالت دیکھ کر روتی تو ر ہیں لیکن کچھ کر نہیں سکتی تھیں کیونکہ اپنے فرائض کی ادائیگی بھی ضروری تھی۔گو بعد میں انتظام بہتر کر دیا گیا اور پہلے دن والا واقعہ دوبارہ نہیں ہوا۔جمعہ کی وقتی تکلیف ہوئی تھی۔انتظامیہ خاص طور پر چھوٹے بچوں والی ماؤں سے معذرت بھی کر رہی ہے اور ان کی شکر گزار بھی ہے۔اس بات نے ان احمدی عورتوں کے صبر اور حوصلے کا اظہار بھی کر واد یا اور بتادیا کہ آج تک یہ صبر ہم میں قائم ہے کیونکہ اگر ان عورتوں کی وجہ سے ذرا بھی بے صبری کا اظہار ہو تا تو وہ داخلے کا جو نظام تھا، تمام نظام درہم برہم ہو جانا تھا۔اس کی کامیابی یقیناً شامل ہونے والوں کے تعاون کی وجہ سے ہے۔اس کے لئے پھر وہی خدا تعالیٰ کی حمد کا مضمون چلتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی دلوں میں اس بات کو قائم رکھتا ہے کہ جماعت کے لئے تم نے قربانی