خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 406
406 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 6 اگست 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم نشانی شکر گزاری ہی ہے۔لیکن غیر مومن شکر گزار نہیں ہوتے۔ایک جگہ اللہ تعالیٰ اپنے فضلوں اور احسانوں کا ذکر کرتے ہوئے انسان کے ناشکرے پن کا ذکر یوں فرماتا ہے کہ اِنَّ اللهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ (البقرة:244 ) کہ اللہ لوگوں پر یقینا بڑا فضل کرنے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔اتنے فضلوں اور احسانوں کے بعد جو شکر گزاری کا حق ہے اُسے ادا کرنے کی طرف توجہ نہیں دیتے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ وہ انسان کی روحانی ترقی کے بھی سامان فرماتا ہے اور دنیاوی اور ظاہری ترقی کے بھی سامان فرماتا ہے۔پس ایک مومن جب یہ دونوں طرح کے فضل اللہ تعالیٰ کی طرف سے برستے دیکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری میں پہلے سے بڑھتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کی شکر گزاری کا سب سے بہترین طریق اس کے بتائے ہوئے طریق کے مطابق اس کی عبادت کرنا ہے جسے ہر وقت ہر مومن کو ہمیشہ یادر کھنا چاہئے۔اس کے آگے جھکنا ہے اور اپنے ہر کام کے نیک نتائج کو خدا تعالیٰ کی ذات کی طرف منسوب کرنا ہے، اس کے فضل کی طرف منسوب کرنا ہے۔اور یہی حقیقی مومن کہلاتے ہیں جو اس سوچ کے ساتھ چل رہے ہوتے ہیں۔یہی اللہ کے نام کے ساتھ ہر کام کے شروع کرنے کا ادراک رکھنے والے ہوتے ہیں۔اور یہی اللہ تعالیٰ کی صفت رحمانیت اور رحیمیت کو اپنے کاموں کے انجام تک پہنچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔اور جب ایک مومن کو اس بات کا ادراک حاصل ہو جاتا ہے تو اس بات کے علاوہ اس کے لئے کوئی اور راستہ نہیں ہوتا کہ اس شکر گزاری کا اظہار اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہوئے کرے۔اور حمد کے لئے بھی قرآن کریم نے ہی ہمیں صحیح طریق بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ نے سورۃ فاتحہ میں ایک مومن کو واضح فرما دیا کہ جب تم میرے نام کے ساتھ کام شروع کرتے ہو اور میرے فضلوں کے نظارے دیکھتے ہو تو پھر یہ اعلان کر و۔اپنی عبادتوں میں طاق ہو جاؤ اور وہاں سے یہ اعلان کر و پانچوں وقت کی نمازوں میں، اور نمازوں کی ہر رکعت میں اور نوافل میں اور دعاؤں میں کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحه : 2) کہ سب تعریف اور حمد اللہ تعالیٰ کی ہے جس نے میرے لئے یہ تمام سامان مہیا فرمائے۔پس ایک مومن کو ، ایک حقیقی شکر گزار کو اللہ تعالیٰ کے ہر قسم کے انعامات افضال جو خدا تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت کے نتیجہ میں ظاہر ہو رہے ہوتے ہیں اسے خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے والا بناتے ہیں۔حقیقی حمد کا ادراک اس میں پیدا ہوتا ہے۔اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے ثنا اور شکر کی بجائے حمد کا لفظ کیوں استعمال کیا ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ”اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کو حمد سے شروع کیا ہے نہ کہ شکر اور مدح سے۔کیونکہ لفظ حمد ان دونوں الفاظ کے مفہوم پر پوری طرح حاوی ہے اور وہ ان کا قائمقام ہوتا ہے۔مگر اس میں اصلاح، آرائش اور زیبائش کا مفہوم ان سے زائد ہے“۔(کرامات الصادقین۔روحانی خزائن جلد 7 - صفحه 107- ( ترجمه از عربی عبارت) تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 76) پس جب ہم اللہ تعالیٰ کی حمد کرتے ہیں تو یہ صرف سادہ شکر گزاری نہیں ہے بلکہ اس بات کا اقرار ہے کہ