خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 24

خطبات مسرور جلد ہشتم 24 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 08 جنوری 2010 پانی آ گئے، سات سمندر پار کا علاقہ ہے۔یہ علاقہ واقعی اسم بامسمیٰ ہے۔اس جگہ پر پہلی مرتبہ کوکوا (Kukua) کے مقام پر تقریباً 50 لوگوں نے بیعت کی اور دو مسلمان گھرانوں کے علاوہ باقی لوگ غیر مسلم ہیں اور اکثر احمدی مسلمان بن گئے ہیں اور ان علاقوں میں بھی جماعت کے پروگراموں کے دوران جمعہ کا دن بھی آیا لیکن پورے علاقے میں کہیں کوئی مسجد نہیں تھی۔یہاں کبھی کسی نے جمعہ نہ پڑھا اور نہ ہی پڑھایا تھا۔اس موقعہ پر کہتے ہیں میں نے پہلی دفعہ درخت کے نیچے جمعہ کی نماز پڑھائی اور یوں اس دور دراز علاقے میں پہلی مرتبہ احمدیت کی برکت سے جمعہ کی نماز ادا کی گئی۔اب اس علاقہ میں ایک مسجد کی تعمیر کا پروگرام ہے اور انشاء اللہ جلدی شروع ہو جائے گی۔کونگو برازویل سے (ہمارے مبلغ) لکھتے ہیں کہ ہمارے ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ، مجالس سوال و جواب جاری ہیں۔ریڈیو اور ٹی وی کے ایک پروگرم میں ایک دہریہ نے کہا کہ مجھے ”خدا ہے“ کی سمجھ نہیں آتی، آپ مجھے خدا ہے کا مسئلہ سمجھا دیں تو میں مسلمان ہو جاؤں گا۔تو کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ آدھے گھنٹے میں اس کو خدا ہے کا مسئلہ سمجھ آ گیا اور بہت بڑے مجمع میں اس نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ آج تک کوئی پادری مجھے یہ مسئلہ نہیں سمجھا سکا۔لیکن مسلمانوں کے مشنری نے میری تسلی کرا دی ہے اور آج میں مسلمان ہوتا ہوں۔اسی طرح ہمارے ایک معلم، جو وہیں سے ٹریننگ لے کر کام کر رہے ہیں تبلیغ کی غرض سے ایک گھر میں چلے گئے اور گھر کے مالک کو بتایا کہ اسلام کا پیغام لے کر آیا ہوں۔جو نہی اس نے اسلام کا نام سنا آگ بگولا ہو گیا اور برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور لوگ بھی جمع ہو گئے۔ہمارے معلم نے کہا ٹھیک ہے آپ جو مرضی سمجھتے رہیں۔لیکن ایک دفعہ میری بات سن لیں۔لوگوں نے کہا کہ چلو سن لو کیا کہتا ہے؟ معلم نے پہلے تو ان کے غلط عیسائی عقائد کا رد بائبل کی رو سے کیا۔پھر اسلام کی حسین پیش کی جس کا لوگوں پر خاص اثر ہوا۔اس وقت تو وہ شخص نہیں بولا۔لیکن دوسرے دن معلم کے پاس آیا اور معافی مانگی کہ کل جو کچھ میں نے کیا تھا اچھا نہیں کیا اب مجھے سمجھ آگئی ہے۔اسی طرح نائیجیریا میں تبلیغ کا بڑا کام ہو رہا ہے۔بہت سارے امام کام کرر ہے ہیں۔معلمين اس سلسلے میں کام کر رہے ہیں۔کنشاسا میں بہت کام ہو رہا ہے اور بڑے بڑے دُور دراز علاقوں میں اسلام کا تبلیغی پیغام بھی پہنچ رہا ہے۔تبلیغ بھی ہو رہی ہے اور مساجد بنانے کی کوشش بھی ہو رہی ہے۔بور کینیا فاسو کے امیر صاحب لکھتے ہیں کہ ریڈیو کے سلسلے میں ایک اور واقعہ درج ہے کہ ماہ دسمبر میں ایک بزرگ جن کا نام تارورے تمو گو ہے ان کی عمر 85 سال ہے، احمدیہ مشن آئے اور بتایا