خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 398
خطبات مسرور جلد ہشتم 398 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 جولائی 2010 مردوں کا داخلہ بڑاsmooth چل رہا تھا۔تو بہر حال یہ دیر ہو رہی ہے۔بعضوں کو دھوپ میں بھی کھڑا ہونا پڑے گا، اسی وجہ سے بے چینی پیدا ہوتی ہے، یا اپنے کسی عزیز کی وجہ سے جو کچھ معذور ہیں یا جو پوری طرح صحت مند نہ ہو ، ان کی چیکنگ ہونے کی وجہ سے ان کو لانے والے کو بھی رکنا پڑتا ہے۔گو یہ انتظام ہے کہ disable لوگوں کے لئے انہوں نے علیحدہ راستہ بنایا ہے اور جلدی فارغ کرنے کی کوشش ہوتی ہے۔لیکن ان کو لانے والے جو دوسرے اٹنڈنٹ (Attendent) ہیں اُن کو بعض دفعہ چیکنگ میں وقت لگ جاتا ہے۔تو پھر اس وجہ سے اس معذور کو بھی تکلیف ہوتی ہے۔جس کی وجہ سے بعض زودرنج جو ہیں بڑ بڑانا شروع کر دیتے ہیں۔تو یہ چیزیں پھر ماحول میں بد مزگی کا باعث بنتی ہیں۔پس صبر اور حوصلہ دکھانا بھی ایک مومن کی شان ہے۔آنحضرت صلی علی یم نے فرمایا ہے کہ بڑی فضیلت یہ ہے کہ تم قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھو۔جو تمہیں نہیں دیتا اسے بھی دو۔یہ نہیں کہ جو ضرورت کے وقت تمہارے کام نہیں آیا تو اس کو ضرورت پڑنے پر بدلہ لیتے ہوئے تم بھی اس کی مدد نہ کرو۔اور فرمایا کہ جو تمہیں برا بھلا کہتا ہے اس سے در گزر کر و۔پس یہاں تو برا بھلا کہنے کا سوال نہیں ہے۔یہاں تو ایک فرض کی ادائیگی ہے جو کارکنان کے ذمہ لگائی گئی ہے۔پس یہاں اگر انجانے میں کسی کار کن سے کوئی غلطی ہو جائے یا چیکنگ کے دوران دیر لگ جائے یا کسی کے کارڈ پر کوئی اعتراض پیدا ہو جائے تو برا منانے کی بجائے حوصلہ دکھانا چاہئے۔اب یہ تینوں باتیں جو آنحضرت صلی علی ایم نے فرمائی ہیں یہ وسعتِ حوصلہ کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔اگر وسعت حوصلہ پیدا ہو جائے تو تمام بد مزگیاں اور جھگڑے ختم ہو جائیں۔پس میں مہمانوں اور ڈیوٹی دینے والوں، دونوں کو کہتا ہوں کہ ان کا فرض ہے کہ وسعت حوصلہ دکھائیں۔یہاں میں ایک بات چیکنگ کرنے والے کارکنان جو گیٹس پر ڈیوٹی والے ہیں، ان کو بھی کہنا چاہتا ہوں کہ بعض نوجوان اور لڑکپن کی عمر کے ہیں، گو کہ مجھے امید ہے کہ جلسے کے دوران ان دنوں میں تو ایسا واقعہ نہیں ہو گا۔لیکن بعض جگہ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ غلط رویہ دکھایا گیا ہے۔اور یہ نظام چونکہ نیا شر وع ہوا ہے اس لئے باوجود میرے کہنے کے اور اس کوشش کے کہ یہاں ان جگہوں پر سنجیدہ طبع لوگوں کی ڈیوٹی لگائی جائے، بعض غیر سنجیدہ یا ایسے لوگ جو موقع محل نہیں دیکھتے انہیں ہر وقت مذاق کی عادت ہوتی ہے ان کی بھی ڈیوٹی لگ گئی ہے۔مذاق میں کسی واقف کار کو ضرورت سے زیادہ وقت لگا کر چیک کرتے ہیں۔جس سے بعض اوقات وہ مذاق جو ہے وہ سنجیدگی میں بدل جاتا ہے۔اس لئے گیٹ پر چیکنگ کے وقت انتظامیہ کو چاہئے کہ سنجیدہ لوگ موجود ہوں اور نائبین جو افسران ہیں وہ بھی ضرور موجود رہیں۔دوسرے اس مذاق میں جو وقت ضائع ہوتا ہے تو اس سے جو دوسرے آنے والے ہیں ان کا بھی وقت لگ جاتا ہے ان کو بھی تکلیف ہوتی ہے ، ان کو انتظار کرنا پڑتا ہے۔میرے پاس ایک آدھ شکایت اس قسم کی بھی آئی ہے اس لئے یہ صورت حال بیان کر رہا ہوں۔بہر حال تمام مہمان یہاں ایک