خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 386
خطبات مسرور جلد ہشتم 386 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 23 جولائی 2010 طریق، محنت، شوق اور اخلاق مہمانوں کو متاثر کرتے ہیں۔گویا کہ یہ کارکنان علاوہ اپنی ڈیوٹیوں کے ایک خاموش مبلغ کا کر دار ادا کر رہے ہوتے ہیں اور دوہرا ثواب کمارہے ہوتے ہیں۔ایک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمانوں کی خدمت کر کے اور دوسرے غیروں پر احمدیت اور حقیقی اسلام کی تصویر پیش کر کے ، جس سے کئی نیک فطرت جو ہیں وہ حق کو شناخت کر لیتے ہیں اور اپنی دنیا و آخرت سنوارتے ہیں۔پس یہ جلسہ کی ڈیوٹیاں ہر کارکن اور کارکنہ کے لئے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں۔اللہ تعالیٰ سب کو اپنے فرائض احسن رنگ میں بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔اس سال سکیورٹی کے ضمن میں بھی میں خاص طور پر توجہ دلانا چاہتا ہوں۔گزشتہ سال سے خاص طور پر اس شعبے میں بہت بہتری پیدا ہوئی ہے اور وسعت بھی پیدا ہوئی ہے۔لیکن اس سال خاص طور پر اس میں معمولی سے سقم اور کمی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے۔اور جو بھی انتظام ہے، ان کو اپنی باریکی میں جاکر اس کا خیال رکھنا چاہئے۔جماعت کی طرف سے جو کارڈ ایشو ہوئے ہیں ان کی مکمل تسلی کرنی چاہئے۔ہر ایک کو چاہے وہ واقف ہی ہو ، جو بھی سکین وغیرہ کرنے کا، چیک کرنے کا طریقہ کار ہے اس پر پورا عمل ہونا چاہئے۔کسی کی چند لمحوں کی معمولی ناراضگی برداشت کر لیں لیکن فرائض میں کوتاہی نہیں ہونی چاہئے۔اس تعلق میں اس سال میں جرمنی کی مثال دے رہا ہوں۔جرمنی کے جلسہ سالانہ پر بہت اچھا انتظام تھا اور کافی تعداد میں گیٹ ہونے کی وجہ سے کوئی دقت بھی پیش نہیں آئی۔ہر ایک کارڈ کی معلومات، جب سکین ہوتا تھا بمعہ تصویر اور اس کے ذیلی تنظیم سے تعلق ، عمر وغیرہ وہ سب سامنے آجاتا تھا۔بہر حال اس سال مجموعی طور پر جلسہ جرمنی کے اعلیٰ انتظامات کے علاوہ ان کا سکیورٹی کا انتظام اور چیکنگ کا انتظام بھی بہت قابلِ تعریف تھا۔اللہ تعالیٰ ان تمام احمدی نوجوانوں کو جزا دے اور ان کے ذہنوں کو مزید جلا بخشے جنہوں نے بڑی محنت سے یہ سسٹم ترتیب دیا تھا۔عموما میں جرمنی کے جلسہ کے بعد ان کے کارکنان کی خدمات اور خوبیوں کا ذکر کر دیا کرتا ہوں۔اس سال کیونکہ موقع نہیں پیدا ہو سکا تو آج میں نے سوچا کہ مختصر ذکر کر دوں۔بہر حال جلسہ کے دنوں میں گیٹس پر چیکنگ اور سکیورٹی کے نظام کے شعبے کو یہاں بھی جلسہ گاہ میں بھی اور اور جگہوں میں بھی، قیامگاہوں میں بھی بہت زیادہ ہوشیار ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اور ہر جگہ صرف نو عمر لڑکے ہی مقرر نہ کر دیئے جائیں بلکہ ان کے ساتھ ان کے پختہ ذہن کے جو افسران ہیں، یا نائین ہیں وہ بھی ہونے چاہئیں۔لیکن سب سے بڑھ کر یہ بات یاد رکھیں، جیسا کہ میں نے شروع میں ہی کہہ دیا ہے کہ ہمارا اصل انحصار خدا تعالیٰ کی ذات پر ہے۔اس لئے کوئی بھی لمحہ دعاؤں سے خالی نہ جانے دیں۔ڈیوٹی کے دوران بھی دعائیں کرتے رہیں۔