خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page iv of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page iv

خطبات مسرور جلد ہشتم 2 دیتی ہیں ان سے بچنے کی نصائح ہیں، ساری دنیا میں توحید اور دین حق کا پیغام پہنچانے کے لئے بیت الفضل لندن سے خطبات کا سلسلہ تو جاری رہا ہی البتہ امام جماعت احمد یہ ہمارے پیارے امام ہمام حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب اطال اللہ عمرہ و ایدہ اللہ بنصرہ العزیز بنفس نفیس سپین، فرانس، اٹلی، سوئٹزرلینڈ، جرمنی، اور آئر لینڈ تشریف لے گئے۔اور اٹلی میں کفن مسیح کی نمائش کے موقعہ پر اس مقدس کفن کو بھی دیکھا جماعت احمدیہ کی کسی بھی خلیفہ کا لئے یہ پہلا موقعہ تھا۔یوں یہ سال بہت سے پہلوؤں کے اعتبار سے ایک منفر د سال رہا، اس سال کا آغاز بھی جمعہ المبارک سے ہوا اور اختتام بھی جمعہ جیسے مبارک اور بابرکت دن سے ہوا۔یہ سال احمدیت کو ہمیشہ کی طرح بے شمار فضلوں اور برکتوں کا وارث بنا گیا۔یہ سال جماعت احمدیہ کی تاریخ کا کبھی بھی نہ بھلایا جانے والا سال اس پہلو سے بھی بن گیا کہ 28 مئی کو لاہور کی دو مساجد میں نماز جمعہ کے موقعہ پر اسی سے زائد معصوم احمدیوں کو شہید کر دیا گیا۔آکاش احمدیت پر بنی جانے والی یہ ایسی کہکشائیں ہیں اور یہ شہدا ایسے قطب ستارے بن گئے کہ جن کی چمک اور روشنی آئندہ آنے والوں کو وفا اور استقامت کی راہیں دکھانے کا باعث بنتے رہیں گے۔ان کی یہ قربانیاں تو کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی یہ اللہ کے فضل سے دیکھتے ہی دیکھتے پھول پھل لائے گی البتہ مظلوم احمدیوں پر ظلم کرنے والوں کو اب کہیں امان نہیں ملنے کی ، یہ ظالم پاکستان میں ہوں یا ہندوستان میں ، مصر میں ہوں یا انڈو نیشیا میں ، یورپ میں ہوں یا امریکہ میں کہیں بھی ہوں ان مظلوموں کی آہیں ان کا پیچھا کرتی رہیں گی ”تیرے پیچھے ہے جو قضا کی طرح کب تلک جنگ ایسے تیروں سے “احمدی مظلوم تو ہے وہ بے بس بھی ہے لیکن وہ بے کس نہیں ہے ، ہر احمدی جو جہاں کہیں بھی ہے وہ لاوارث نہیں ہے اس کا ایک مولا ہے اور وہ قادر مطلق جب اپنے پیاروں کی مدد کو آیا ہے تو پھر ظالموں کے لئے کوئی ٹھکانہ نہیں رہا، حکومتیں پارہ پارہ ہوتی رہیں اور دشمنوں کے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر فضاؤں میں بکھرتے رہے ، ہمارا خدا اب بھی وہی خدا ہے اور ہم سے پیار کرنے والا ہمارا امام اب بھی ہمارے پاس موجود ہے وہ ہم سے پیار کرتا ہے ہم اس سے پیار کرتے ہیں، کوئی دکھ اور کوئی تکلیف اور کوئی ابتلاء ہمارے اس تعلق کو ختم کر سکتا ہے نہ کم ، انشاء اللہ۔ہاں ہماری ، ہر احمدی کی ایک ذمہ داری ہے اور وہ یہ کہ عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعاؤں کے ساتھ اور پوری فرمانبرداری کے ساتھ اپنے امام کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس شاہراہ صداقت پر چلتے چلے جائیں تیز سے تیز تر خود بھی اور اپنی نسلوں کو بھی ساتھ لے کر۔حضور انور ایدہ اللہ ہماری اس ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں: پس یہ ہمیشہ ہمیں اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے اور آپ کی قائم کر دہ جماعت نے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق غالب تو انشاء اللہ تعالی آنا ہے۔راستے کی مشکلات ناکامی کی نہیں بلکہ کامیابی کی علامت ہیں۔اگر ہم تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے اپنی اور اپنے بچوں کی اصلاح کی طرف نظر رکھیں گے ، اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھتے ہوئے اپنے آپ کو اور اپنے بچوں کو اس نظام کا حصہ بنائے رکھیں گے جو اللہ تعالیٰ نے قائم فرمایا تو ہم بھی اس رحمت اور فضل کے حاصل کرنے والے بن جائیں گے جو خدا تعالیٰ نے جماعت کے لئے مقدر کئے ہوئے ہیں۔اور ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی انشاء اللہ تعالیٰ فتوحات