خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 374 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 374

خطبات مسرور جلد ہشتم 374 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا دعویٰ مسیحیت اور مہدویت کا ذکر کیا۔تو چونکہ میرے دل میں حضور کی نسبت کوئی بغض اور عداوت نہ تھی، میں نے ان کے کہنے کو برا نہ منایا۔صرف یہ خیال آیا کہ مولوی لوگ کیوں ایسا کہتے ہیں ؟ اس کی وجہ بھی یہ تھی کہ خاکسار کے آباؤ اجداد اکثر مولوی لوگوں سے بوجہ اپنے دیندار ہونے کے محبت رکھا کرتے تھے۔اور یہی وجہ خاکسار کی بھی مولویوں سے محبت کی تھی۔کہتے ہیں انہوں نے مجھ کو جب کتاب البریہ ، ازالہ اوہام دیکھنے کو دی تو میں نے کتاب دیکھنے سے پہلے دعا کی کہ خداوندا میں بالکل نادان اور بے علم ہوں میرے علم میں جو حق ہے اس پر میرے دل کو قائم کر دے۔یہ دعا ایسی جلد قبول ہوئی کہ جب میں نے ازالہ اوہام کو پڑھنا شروع کیا تو اس قدر دل کو اطمینان اور تسلی شروع ہوئی کہ حضور کی صداقت میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہا اور زیادہ سے زیادہ ایمان بڑھتا گیا۔اور جب پھر میں پہلی بار قادیان میں حضور کی زیارت کو میاں خیر دین صاحب کے ساتھ آیا اور حضور کی زیارت کی تو میرے دل نے ایسی اطمینان اور تسلی بخش شہادت دی کہ یہ شکل جھوٹ بولنے والی اور فریب والی نظر نہیں آتی۔چنانچہ اس وقت میں نے میاں خیر دین صاحب کو کہا کہ اول تو میں نے حضور کی نسبت کوئی لفظ بے ادبی اور گستاخی کا کبھی نہیں کہا۔اور اگر خدانخواستہ کبھی ایسا ہو گیا ہو تو میں تو بہ کرتاہوں۔یہ شکل جھوٹ بولنے والی نہیں۔مجھے یقین ہے کہ میاں خیر دین صاحب کو یاد ہو گا اور اس وقت بھی شہادت دے سکتے ہیں۔پھر لکھتے ہیں کہ پھر مہر ساون صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ جواب بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں وہ سیکھواں کے رہنے والے معزز زمیندار تھے۔ان کی میرے ساتھ محبت ہو گئی اور میرے عقیدہ کے ساتھ ان کو بھی اتفاق ہو گیا۔اگر چہ وہ پہلے میاں جمال دین امام دین صاحبان سے بوجہ ان کے دو خیال ہونے کے اختلاف رکھا کرتے تھے ، پھر ان کا عقیدہ اور خیال ہمارے ساتھ ہی ہو گیا۔اور 1892ء میں خاکسار اور مہر صاحب موصوف نے ایک ہی وقت میں بیعت کی ( یہاں 92ء لکھا ہے اور یہ میراخیال ہے 93ء کا قصہ ہے۔) اور ہم ہنسا کرتے تھے کہ میں اور مہر صاحب جوڑے ہیں۔(میری اور مہر صاحب موصوف کی روحانی پیدائش ایک ہی وقت کی ہے۔کہتے ہیں کہ چونکہ میر اپہلا نام بوجہ اس کے کہ میں اپنے ننھیال میں پیدا ہو اتھا اور صاحب علم خاندان نہ تھا میر امشر کا نہ نام رکھ دیا یعنی میراں بخش۔اس کی تبدیلی کی بہت کوشش کرتے رہتے اور مدت تک تبدیل بھی رہا لیکن پورے طرح نام بدلا نہ گیا۔پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نام تبدیل کر کے عبد العزیز رکھا تو میں نے دعا کی کہ خداوند کریم اب تو تیرے مسیح موعود نے نام تبدیل کیا ہے اس کو مستقل طور پر قائم کر دے اور پہلے نام کو ایسا مٹادے کہ وہ کسی کو یاد ہی نہ رہے۔چنانچہ دعا قبول ہوئی اور سرکاری کاغذات پٹواری میں اور عام مشہور یہی نام ہے۔پہلے نام کو کوئی نہیں جانتا۔اس وقت تک جب تک نام تبدیل نہیں ہوا با وجود جلسوں وغیرہ میں شامل رہنے کے سلسلہ کے کسی کاغذ میں پہلا نام نہیں آیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ (غیر مطبوعہ ) نمبر 5 صفحہ 70-69)