خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 371
371 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم ہوتا اس نے اپنے فضل سے ایک رات میں احسان کر کے مجھ کو طے کر دیا۔اور وہ اس طرح کہ اپنے مولویوں کے مطابق میں ہمیشہ احمدیوں سے جب گفتگو کرتا تو مجھے ہمیشہ یقین ہو تا کہ ہمارے مولوی دین کے ستون ہیں اور ہمیں شرک ، بدعت سے بچانے کے لئے محض اللہ پوری کوشش کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ ہم اہلحدیث اپنے آپ کو متقی اور ہر ایک حرام اور جھوٹ سے پر ہیز کرنے والا خیال کرتے تھے۔ایک دفعہ مارچ کا مہینہ تھا، غالب 1902ء کا ذکر ہے ، ہم چند اہلحدیث جہلم سے لاہور بدیں غرض روانہ ہوئے کہ چل کر انجمن حمایت اسلام لاہور کا جلسہ دیکھیں جو سال کے سال ہوا کرتا تھا۔ہم لاہور پہنچ کر جلسہ گاہ جا رہے تھے کہ پنڈال کے باہر دیوار کے ساتھ ایک مولوی صاحب کھڑے ہوئے وعظ فرما رہے تھے۔ایک ہاتھ میں قرآنِ مجید تھا، دوسرے ہاتھ سے چھوٹے چھوٹے اشتہارات بانٹ رہے تھے۔اور منہ سے یہ کہتے جاتے تھے کہ مرزا نعوذ باللہ کوڑھی ہو گیا ہے اس لئے کہ نبیوں کی ہتک کرتا تھا اور خود کو عیسیٰ کہتا تھا اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ کی قسم اٹھا کر یہی الفاظ مذکورہ بالا دہراتا جاتا تھا۔ہم سن کر حیران ہو گئے اور اپنے دل میں کبھی وہم بھی نہ گزرا تھا کہ کوئی شخص اس قدر بھی جرآت کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر جھوٹ بولتا ہے اور قرآنِ مجید اٹھا کر جھوٹ بولتا ہے۔(وہ مولوی جو اس وقت بولتا تھاوہ آج بھی بولتا ہے، ایک ہی قسم ہے ان کی۔بہر حال کہتے ہیں تین آدمی تھے ، میں نے اس سے اشتہار لے لیا اور پڑھنے لگے۔اس پر بھی یہی مضمون تھا کہ نعوذ باللہ مرزا کوڑھی ہو گیا ہے ، نبیوں کی ہتک عزت کرتا تھا وغیرہ وغیرہ۔میں نے اپنے ساتھیوں کو کہا کہ چلو قادیان چلیں اور مرزا صاحب کا حال اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اپنے شہر کے مرزائیوں کو کہیں گے جو ہر روز ہمارے ساتھ گفتگو کرتے رہتے ہیں اور جو اعتراض ہمارے علماء کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ تمہارے چودھویں صدی کے علماء جھوٹ بولتے ہیں۔ہمارا بیان تو چشمدیدہ ہو گا، ہم ان کو ( یعنی احمدیوں کو ) خوب جھوٹا کریں گے۔پہلے تو انہوں نے انکار کیا مگر میرے اصرار پر تیار ہو گئے۔ہم تینوں لاہور سے سوار ہو کر بٹالہ اترے۔بٹالہ سے ایک روپیہ کو یکہ لیا اور شام اور عصر کے درمیان قادیان مہمان خانے میں پہنچ گئے۔شام کا وقت تھا، یعنی مغرب کی نماز کا وقت قریب ہی تھا۔میں نے کسی سے پوچھا کہ مرزا صاحب جہاں نماز پڑھتے ہیں وہ جگہ ہم کو بتاؤ کہ ہم ان کے پاس کھڑے ہو کر ان کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ایک شخص شاید وہی تھا جس سے ہم نے پوچھا تھا، میرے ساتھ ہو لیا اور وہ جگہ بتائی جہاں حضور کھڑے ہو کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔چونکہ وقت قریب ہی تھا میں وہیں بیٹھ گیا جہاں حضور نے میرے ساتھ داہنے ہاتھ آکر کھڑا ہونا تھا۔باقی دونوں دوست میرے داہنے ہاتھ کی طرف بیٹھ گئے۔یہ مسجد حضور کے گھر کے ساتھ ہی تھی جس کو اب مسجد مبارک کہتے ہیں۔یہ اس وقت اتنی چھوٹی تھی کہ بمشکل اس میں چھ یا سات صفیں لمبائی میں کھڑی ہو سکتی ہوں گی۔اور ایک صف میں قریباً چھ آدمیوں سے زیادہ نہیں کھڑے ہو سکتے ہوں گے۔چند منٹ کے بعد مغرب کی اذان ہوئی تو شاید دو تین منٹ کے بعد حضرت