خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 370
370 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 خطبات مسرور جلد ہشتم حدیث نزول ابنِ مریم اصلی معنوں میں مجھ پر چسپاں ہوتی ہے اور میں ہی اس کا مصداق ہوں۔اس مسئلے نے دنیا میں ایک تغیر عظیم پیدا کیا۔اور ہر طرف سے مولویوں نے کفر کے فتوے شائع کئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک اور رسالہ موسوم بہ آسمانی فیصلہ شائع کیا جس میں قریباً 80 یا کچھ کم احباب شامل ہوئے۔یہ پہلا جلسہ ہے جو قادیان میں ہوا۔حضور کا منشاء یہ تھا کہ آپ کو منہاج نبوۃ پر آزمایا جاوے کہ از روئے قرآن مومن کون ہے اور کافر کون ؟ پھر لکھتے ہیں کہ خاکسار کو بھی اس جلسے میں شامل ہونے کے لئے مدعو کیا گیا۔میں اس زمانے میں انجمن حمایت اسلام لاہور کا مہتم کتب خانہ تھا اور آنریری طور پر اپنی ملازمت کے اوقات کے علاوہ وہ خدمت جو حمایت اسلام کی تھی دینی خدمت سمجھ کر سر انجام دیتا تھا۔کہتے ہیں جب میں قادیان پہنچا تو میرے ساتھ انجمن حمایت کے بہت سے کارکن جن میں سے حاجی شمس الدین سیکرٹری اور معزز احباب بھی شامل تھے۔اس جلسے میں آسمانی فیصلہ پڑھ کر سنایا گیا۔جہاں تک مجھے یاد ہے یہ رسالہ آسمانی فیصلہ مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم نے پڑھ کر سنایا۔لکھتے ہیں کہ جلسہ بڑی مسجد میں جو آج کل مسجد اقصیٰ کے نام سے مشہور ہے منعقد ہوا۔سب سے اخیر حضرت مسیح موعود تشریف لائے۔کہتے ہیں جس وقت حضور مسجد میں تشریف لائے اور میری نظر حضور کے چہرہ مبارک پر پڑی تو میں نے حضور کو پہچان لیا اور فوراً بجلی کی طرح میرے دل میں ایک لہر پید اہوئی کہ یہ وہ مبارک وجود ہے جس کو میں نے ایام طالبعلمی یعنی ستمبر 1882ء کو خواب میں دیکھا تھا۔حضرت صاحب نے اس دن وہ لباس پہنا ہوا تھا جس لباس میں وہ مجھے خواب میں ملے تھے۔کہتے ہیں جب جلسہ ختم ہوا تو حضور مسجد اقصیٰ کے دروازے کے قریب کھڑے ہو گئے اور ہر ایک ان سے مصافحہ کرتا اور رخصت ہو تا۔سب سے اخیر میں، آخر میں نے مصافحہ کیا کیونکہ میرے دل میں کچھ خاص بات عرض کرنی مقصود تھی۔میں نے عرض کیا کہ میں نے پہلے ایک کے ہاتھ پر بیعت کی ہوئی ہے میرے لئے کیا حکم ہے ؟ حضور نے فرمایا کہ اگر وہ شخص نیک ہے تو آپ کی بیعت نور علی نُور ہو گی۔اور اگر وہ نیک نہیں ہے تو اس کی بیعت فسخ ہو جائے گی اور ہماری بیعت رہ جائے گی۔میں نے عرض کیا کہ میں بیعت کرنا چاہتا ہوں۔حضور نے فرمایا کہ ہم خود تمہیں بلالیں گے۔اس کے تھوڑی دیر بعد حضور کا خادم حامد علی صاحب مرحوم مجھے بلا کر لے گئے اور میں نے آپ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیعت کی۔فالحمد للہ علی ذالک۔(ماخوذ رجسٹر روایات (غیر مطبوعہ ) صحابہ نمبر 5 صفحہ 41 تا 43) ایک روایت ہے حضرت نظام دین ٹیلر ماسٹر صاحب کی، جو جہلم محلہ ملاحاں کے رہنے والے تھے۔ان کی بیعت 1902ء کی ہے۔کہتے ہیں کہ میں حیران ہوں کہ یہ نعمت عظمی یعنی احمدیت محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجھے نصیب ہوئی۔میں سچ کہتا ہوں کہ جس حالت میں میں تھا، اگر کئی برس بھی اسی حالت میں رہتا تو شاید احمدیت کے نزدیک بھی نہ آتا۔مگر میرے پیدا کرنے والے نے مجھ پر اتنا احسان کیا کہ وہ راستہ جو برسوں میں مجھ سے طے نہ