خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 369

خطبات مسرور جلد ہشتم 369 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 کرتا ہے۔اسی رات صبح کاذب کے وقت حضرت مسیح موعود ہاتھ میں چھڑی لئے ہوئے کھڑے دیکھ رہے تھے اور میں نے ان کا اچھی طرح دیدار کر لیا اور انہوں نے نیچی نظر کر لی۔حضور کی ریش مبارک کو مہندی لگی ہوئی ہے دل بہت خوش ہوا۔( یہ خواب دیکھا تھا، خواب کا قصہ سنارہے ہیں )۔دل میں کہتا ہوں کہ یہ تو نبی کریم صلی ا ہم ہیں کہ آج تک میں نے ایسا انسان نہیں دیکھا۔آخر معلوم ہوا کہ میں جو رات کو دعامانگ کر سویا تھا یہ اس کا نتیجہ ہے اور میری دعا قبول فرمائی گئی ہے۔اس جگہ (یعنی قادیان) میں 1900ء میں آیا تھا اور آکر مسجد اقصیٰ میں بیٹھ کر میں نے دعا کی کہ یا اللہ ! اگر یہ شخص وہی ہے جو میری خواب والا ہوا، کہ جو کہ تو نے مجھ کو خواب میں افریقہ میں دکھایا تھا تو پھر میں اس کی بیعت کرلوں گا۔اگر وہ نہ نکلا تو میں اس کی بیعت بھی نہیں کروں گا اور نہ نماز اس کے ساتھ پڑھوں گا، اور نہ ہی کھانا کھاؤں گا اور فوراً واپس چلا جاؤں گا۔یہ دعا کر ہی رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود اس مسجد میں تشریف لے آئے۔اور میں نے دیکھ کر کہا کہ یہ تو بالکل وہی شخص ہے جس کو میں نے افریقہ کے ملک میں خواب میں دیکھا تھا۔حضور کو شناخت کرنے کے بعد ہفتہ کو بیعت کی اور اجازت لے کر تیار ہو گیا۔تو حضور نے فرمایا کہ کم از کم حق کو شناخت کرنے کے لئے پندرہ دن یہاں اور ٹھہر و۔میں نے عرض کی کہ حضور میرے لئے دعا کریں اللہ تعالیٰ مجھ کو تو فیق بخشے کہ میں ہمیشہ آپ کی زیارت کرنے کے لئے حاضر ہوتار ہوں۔پھر حضور نے فرمایا کہ اگر بندے پر کوئی ایسا وقت آجاوے کہ یہاں پہنچنے کی طاقت نہ ہو تو پھر خط ضرور لکھتے رہا کریں۔میرے خطوط کا حضور نے جو جواب دیا وہ میرے پاس خط موجود ہے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ نمبر 5 (غیر مطبوعہ) صفحه 33-32) حضرت صوفی نبی بخش صاحب ولد میاں عبد الصمد صاحب سکنہ شہر راولپنڈی محلہ میاں قطب الدین حال دار البرکات قادیان۔( جن سے روایت نوٹ کی ہے انہوں نے بتایا تھا)۔ان کی بیعت 27 دسمبر 1891ء کی ہے۔اور انہوں نے پہلی دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو شاید 1886ء میں دیکھا تھا۔اب یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ”خاکسار کو اکتوبر 1886ء میں پہلے پہل قادیان میں آنے کا اتفاق ہوا۔وجہ اس کی یہ ہوئی کہ حضور مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار بدیں مضمون شائع کیا کہ ایک لڑکا انہیں عطا کیا جاوے گا جو بہت سے قوموں کی برکت کا باعث ہو گا۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف لیکھرام پشاوری نے بھی ایک اشتہار شائع کیا۔اس امر کی تحقیقات کے ضمن میں مجھے بھی قادیان آنا نصیب ہوا۔اس کے بعد ایک عرصہ گزرنے پر آپ نے فتح اسلام، توضیح مرام اور ازالہ اوہام تین رسالے یکے بعد دیگرے شائع کئے جن میں یہ ثابت کیا کہ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ و السلام فوت ہو چکے ہیں اور وہ بذاتِ خود پھر دنیا میں تشریف نہیں لائیں گے۔اور