خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 367 of 776

خطبات مسرور (جلد 8۔ 2010ء) — Page 367

خطبات مسرور جلد ہشتم 367 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 جولائی 2010 یکچر دینے کے لئے تشریف لے جانے لگے تو راستے میں دو دروازہ محلہ جنڈ اوالا کی مسجد میں ایک شخص حافظ سلطان محمد لڑکے پڑھایا کرتا تھا۔یہ حافظ صاحب جو لڑکوں کو پڑھاتے تھے ، حافظ تھے قرآن کے ، اور ان کے عمل دیکھیں ذرا۔کہتے ہیں کہ اس نے لڑکوں کو چھٹی دے دی اور ان کی جھولیوں میں راکھ بھر دی اور کہا کہ جس وقت مرزا صاحب یہاں سے گزریں تم تمام کے تمام راکھ ان کے اوپر پھینک دینا۔مگر حضرت صاحب چونکہ بند گاڑی میں تھے اس لئے صحیح سلامت وہاں سے گزر گئے۔کہتے ہیں کہ سرائے کے ارد گرد پیر جماعت علی شاہ کے مریدوں نے چار اکھاڑے لگائے ہوئے تھے اور لوگوں کو اندر جانے سے روکتے تھے۔مولوی ابراہیم بھی ان میں شامل تھے۔پیر جماعت علی شاہ پرانے ذبح خانے کے پاس کھڑا تھا۔اب اس جگہ مستری فتح محمد کا مکان بنا ہوا ہے۔حافظ ظفر، شہباز خان کے اڈے میں کھڑا تھا۔یہ شخص پیر جماعت علی شاہ کا دایاں بازو تھا۔یہ تمام ملاں بڑے زور شور سے لوگوں کو اشتعال دلا رہے تھے اور اندر جانے سے روکتے تھے۔جب لیکچر شروع ہوا، حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے پڑھ دیا۔ایک شخص مسمی احمد دین سلہریا تھا وہ جب سرائے میں گیا تو کچھ آدمی دوڑ کر اس کے پیچھے گئے اور اسے اٹھا کر لے آئے کہ وہ لیکچر سنے نہ جائے۔چنانچہ جس مقام پر پیر جماعت علی شاہ کھڑا تھا وہاں اسے چھوڑا مگر وہ پھر دوڑ کر چلا گیا۔جب حضور واپس تشریف لے گئے تو میں ، میرے چا میراں بخش صاحب، شیخ مولا بخش صاحب بوٹ فروش، ملک حیات محمد صاحب سب انسپکٹر پولیس سکنہ گڑھی اعوان حافظ آباد سید امیر علی صاحب سب انسپکٹر، میراں بخش صاحب عطار وغیرہ وغیرہ وزیر آباد تک گئے تھے۔جس وقت حضور کی گاڑی کچہری والے پھاٹک سے گزری تو آگے مخالف لوگ بالکل برہنہ کھڑے تھے اور آوازیں کس رہے تھے اور گاڑی پر پتھر برسارہے تھے۔( یہ شرافت کا حال تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو گالیاں دی جارہی تھیں اور اپنا یہ حال تھا کہ ننگے ہو کر کھڑے تھے۔) کہتے ہیں کہ ہم نے واپس آکر دیکھا تو معلوم ہوا کہ اشرار پارٹی نے مولوی برہان الدین صاحب جہلمی کو زخمی کر دیا ہے۔میرے بھائی بابو عزیز دین صاحب کا ہونٹ پتھر لگنے سے پھٹ گیا تھا۔شیخ مولا بخش صاحب بوٹ فروش کے مکان کے شیشے توڑ دیئے گئے۔ان کے گملے پھول دار پودے برباد کر دیئے گئے۔میں جہلم بھی حضور کے ساتھ گیا تھا۔اس سفر میں بھی رستے میں بے شمار مخلوق تھی۔جب جہلم پہنچے تو دو یورپین لیڈیوں نے (عورتوں نے) پوچھا کہ یہ ہجوم کیوں ہے؟ کسی دوست نے کہا کہ مسیح موعود علیہ السلام ہیں۔انہوں نے کہا ذراہٹ جاؤ ہم نے تصویریں لینی ہیں۔چنانچہ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور انہوں نے فوٹو لے لیا۔صبح تاریخ تھی، تمام کچہری میں چھٹی ہو گئی، صرف اسی مجسٹریٹ کی عدالت کھلی رہی جس میں حضور علیہ السلام نے جانا تھا۔کچہری کے صحن میں ایک دری بچھی ہوئی تھی، اس پر ایک کرسی بچھی تھی۔حضور اس کرسی پر تشریف فرما تھے۔مخلوق بیٹھی تھی۔میرے ہیں گز کے فاصلے پر مولوی ابراہیم سیالکوٹی نے بھی اڈہ جمایا ہوا تھا۔کہتے ہیں کہ حضور نے فرمایا کہ میرے